صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 26
صحيح البخاری جلدم ۲۶ ۳۴- كتاب البيوع باب ۱۲ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى : أَنْفِقُوا مِن طيبتِ مَا كَسَبْتُم اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: خرچ کرو پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم کماؤ۔(البقرۃ:۲۶۸) ٢٠٦٥: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي :۲۰۶۵ عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا۔شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ انہوں نے کہا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَةَ سے، منصور نے ابو وائل سے، ابووائل نے مسروق رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى ہے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ فرمایا: جب عورت اپنے گھر کی خوراک میں سے اللہ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا کی راہ میں ایسے طور پر کچھ خرچ کرے کہ بگاڑ کی نیت أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا بِمَا نہ ہو؟ تو اُسے اُس کا اجر ملے گا، اس وجہ سے کہ اُس كَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ نے خرچ کیا۔اور اُس کے خاوند کو بھی ، اس لئے کہ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا۔اُس نے کمایا۔اور خزانچی کو بھی ویسا ہی۔وہ ایک دوسرے کے اجر کو کم نہیں کریں گے۔اطرافه: ۱۲۵، ۱۳۷، 14۳۹، 1440، 1441۔٢٠٦٦: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ :۲۰۶۶ حي بن جعفر نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے، معمر هَمَّامٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ نے ہمام بن منبہ ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا کہ نبی وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔آپ نے فرمایا: كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهَا جب عورت اپنے خاوند کی کمائی سے بغیر اس کی اجازت کے خرچ کرے تو اُس ( مرد ) کو بھی اُس کا نِصْفُ أَجْرِهِ۔آدھا اجر ملے گا۔اطرافه ٥۱۹۲، ۵۱۹٥، ٥٣٦۰ بعض نسخوں میں اس جگہ لفظ فله درج ہے۔(دیکھئے عمدۃ القاری جزءا صفحہ ۱۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔