صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 27
صحيح البخاری جلدم ۲۷ ۳۴- كتاب البيوع تشریح: اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ : جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔وہ یہاں اس لحاظ سے اہمیت رکھتی ہے کہ امام بخاری کے نزدیک جو حکم آیت متذکرہ بالا میں ہے، اس کی تعمیل کسب مال کے بغیر نہیں ہوسکتی۔مرد اور عورت کوئی فرد بھی بغیر دولت محولہ بالاحکم کی تعمیل سے عہدہ برا نہیں ہوسکتا۔پوری آیت یہ ہے: بنائها الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّيْتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِأَخِدِيْهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيْهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌه (البقرة: ۲۶۸) {اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جو کچھ تم کماتے ہو، اس میں سے اور اس میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین میں سے نکالا ہے پاکیزہ چیز میں خرچ کرو۔اور ( اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے وقت اس میں سے ایسی ناپاک چیز کا قصد نہ کیا کرو کہ تم اُسے ہرگز قبول کرنے والے نہ ہو، سوائے اس کے کہ تم (سبکی کے خیال سے ) اس سے صرف نظر کرو۔اور جان لو کہ اللہ بے نیاز ( اور ) بہت قابلِ تعریف ہے۔یہ آیت کتاب الزكاة ( باب ۲۹) میں بھی گذر چکی ہے۔یہاں یہ مسئلہ مد نظر نہیں کہ عورت اذن یا بغیر اذن بطور صدقہ خرچ کر سکتی ہے بلکہ یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ کسب معاش لا بدی ضروریات زندگی مہیا کرنے کی غرض سے ہی ضروری نہیں بلکہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ تا انسان شریعت کے اس حصے پر عمل کرنے کے قابل ہو ؟ جس کا تعلق زکوۃ وصدقات وغیرہ کی اطاعت سے ہے۔بیع و شراء میں بھی ایک مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنی نیت درست رکھے اور احکام الہی کی بجا آوری اس کا اصل مقصود ہے۔باب ۱۳ : مَنْ أَحَبَّ الْبَسْطَ فِي الرِّزْقِ جو چاہے کہ رزق میں (اس کے لئے ) کشائش ہو ٢٠٦٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي :۲۰۶ محمد بن ابو یعقوب کرمانی نے ہم سے بیان يَعْقُوْبَ الْكِرْمَانِيُّ حَدَّثَنَا حَسَّانُ کیا کہ حسان بن ابراہیم ) نے ہمیں بتایا ( وہ کہتے ہیں ) حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ مُحَمَّدٌ هُوَ الزُّهْرِيُّ: یونس نے ہمیں بتایا۔محمد بن مسلم ) جو زہری ہیں، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت ہے۔انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس کی یہ پسند ہو کہ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ اُس کے رزق میں کشائش ہو ( اور نیکیوں کا زیادہ سے فِي رِزْقِهِ أَوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ زیادہ اُسے موقع ملے ) اور اُس کی عمر دراز ہو تو چاہیے رَحِمَهُ۔طرفه: ٥٩٨٦ کہ وہ صلہ رحمی کرے۔