صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 499
صحيح البخاری جلدم ۴۹۹ ۴۶- كتاب المظالم کے پیچھے چلنا اور اتباع شہوات کرنا اور طرح طرح کی بدیوں کی پیروی کرنا۔یہ سب انسان کے واسطے بت ہیں۔جن کی وہ پوجا کرتے ہیں اور کلمہ لَا إِلهَ إِلَّا اللہ میں ان سب کی نفی کی گئی ہے۔یہ کلمہ شریف ایک اللہ کے سوا تمام معبودوں کی نفی کرتا ہے۔تمام انفسی اور آفاقی اللہ باہر نکال کر اپنے دل کو ایک اللہ کے واسطے پاک صاف کرنا ہیے۔بعض بت ظاہر ہیں مگر بعض بہت باریک ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کے سوا اسباب پر تو کل کرنا بھی ایک بت ہے مگر یہ ایک بار یک بت ہے۔پھر بعض بہت جذبات نفسانی کے ہیں جو کہ انسان کو خدا تعالیٰ اور اپنے ہم جنسوں کی حق تلفی میں حد سے باہر لے جاتے ہیں۔بہت سے پڑھے لکھے جو کہ عالم کہلاتے ہیں اور فاضل کہلاتے ہیں اور مولوی کہلاتے ہیں، حدیثیں پڑھتے ہیں۔اپنے آپ میں ان بتوں کی شناخت نہیں کر سکتے اور اُن کی پوجا کرتے ہیں۔ان بتوں سے بچنا بڑے بہادر آدمی کا کام ہے۔“ ( ملفوظات "کلمہ طیبہ کی حقیقت جلد ۵ صفحه ۸۷ تا ۹۲) مذکورہ بالا اسلام کی بنیادی تعلیم کے پیش نظر لوٹ کھسوٹ سے متعلق فتوی جواز کی حقیقت از خودنمایاں ہو جاتی ہے۔ایسے امور پاکیزگی نفس کے بالکل منافی ہیں۔وَإِنْ زَنَى وَإِن سَرَقَ كتاب الجنائز روایت نمبر ۱۲۳۷) کے الفاظ جو حضرت ابوذر کی روایت میں وارد ہوئے ہیں وہ مذکورہ بالا روایت نمبر ۲۴۷۵ کے بظاہر خلاف ہیں کہ دونوں کا مفہوم متناقض ہے۔ایک میں ہے کہ ایمان کی حالت میں ایسے افعال کا صادر ہونا ممکن نہیں اور دوسری میں ہے کہ ایسے افعال جنت میں داخل ہونے میں حائل نہیں۔دراصل یہ تناقض صرف الفاظ کے لحاظ سے ظاہری تناقض ہے اور جملہ شرطیہ کی یہ ترکیب بھی درحقیقت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حقیقی ایمان تمام سابقہ غلطیوں کے برے اثر کو مٹادیتا ہے۔اس کا یہ مفہوم نہیں کہ تو بہ اور ایمان کے بعد بھی ایسے افعال صادر ہو سکتے ہیں اور انسان ان برائیوں کے ارتکاب کے باوجود جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔باب ۳۱ : كَسْرُ الصَّلِيْبِ وَقَتْلُ الْخِنْزِيْرِ صلیب توڑنا اور سور کو مار ڈالنا ٢٤٧٦: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۲۴۷۶ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ قَالَ: کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔زہری نے أَخْبَرَنِي سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ سَمِعَ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے