صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 493
صحيح البخاری جلدم ۴۹۳ ٤٦- كتاب المظالم بعض فقہاء نے یہاں اونٹ کے نجس یا پاک ہونے کا سوال اُٹھایا ہے کہ مسجد اس کے داخل ہونے سے ناپاک ہو جائے گی۔(دیکھئے عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۲۲) یہ سوالات غیر متعلقہ ہیں۔اس لئے مذکورہ بالا عنوان قائم کر کے ان کا جواب نظر انداز کیا گیا ہے۔مسجد نبوی کے اندر اور باہر کھلی جگہ تھی جو مسجد ہی کا حصہ تھی۔اس قسم کا ایک عنوان کتاب الصلاة باب ۷۸ میں بھی قائم کیا گیا ہے۔نیز اس تعلق میں ابواب متعلقہ آداب مسجد کے لیے کتاب الصلاۃ باب ۶۹ ، ۷۶،۷۵، ۷۷ بھی دیکھئے۔باب ۲۷ : الْوُقُوْفُ وَالْبَوْلُ عِنْدَ سُبَاطَةِ قَوْمٍ کسی قوم کے گھورے کے پاس ٹھہرنا اور پیشاب کرنا ٢٤٧١ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۲۴۷۱ سلیمان بن حرب نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِل نے شعبہ سے، شعبہ نے منصور سے، منصور نے عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَقَدْ ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ : لَقَدْ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّه صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔یا یوں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے گھورے پر آئے اور وہاں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا۔کھڑے ہی پیشاب کیا۔اطرافه ٢٢٤، ٢٢٥، ٢٢٦۔تشریح: الْوُقُوفَ وَالْبَوْلُ عِندَ سُبَاطَةِ قَوْمٍ : سُبَاطَة گھورا یا روڑی۔عربی میں اسے مزبلة بھی کہتے ہیں۔جہاں گھروں کا کوڑا کرکٹ اور گوبر وغیرہ پھینکا جاتا ہے۔(عمدۃ القاری جز ۳۰ صفحه ۲۲) (لسان العرب - سبط) قدیم سے یہ چیز بطور کھاد استعمال ہوتی رہی ہے اور اس لحاظ سے قیمتی شئے ہے۔شہر کے مزبلے کا تعلق آج کل مجالس بلد یہ یعنی شہری کمیٹیوں سے ہے۔دیہات میں ہر شخص کی روڑی اس کی ملکیت ہوتی ہے۔شاملات میں واقع ہونے کی وجہ سے ان سے استفادہ کا حق پبلک کو صرف محدود صورت میں ہوتا ہے۔یہی مضمون عنوان باب کا ہے۔اس محدود حق سے تجاوز کرنا نا جائز ہے اور یہ فعل مظالم کی فہرست میں شامل ہے۔روایت زیر باب کتاب الوضو باب ۶۰ تا ۶۲ میں بھی گزر چکی ہے۔بَابِ ۲۸ : مَنْ أَخَذَ الْغُصْنَ وَمَا يُؤْذِي النَّاسَ فِي الطَّرِيْقِ فَرَمَى بِهِ جس نے کوئی ٹہنی یا وہ چیز جو را بگیر کو ایذاء دینے والی ہو، اُٹھا کر پھینک دی ٢٤٧٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۲۴۷۲: عبداللہ بن یوسف (تنیسی ) نے ہم سے بیان