صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 478 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 478

صحيح البخاری جلد ۴ ۴۷۸ ٤٦- كتاب المظالم رہے یہاں تک کہ میں سمجھا کہ اب وہ اسے وارث قرار دینگے۔ اور یہ ارشاد بھی ہے : مَا يُؤْمِنُ مَنْ بَاتَ شَبْعَانَ وَجَارُهُ طاو ۔ (مصنف ابن ابي شيبة ، كتاب الايمان والرؤيا، باب ما ذكر فيما يطوى عليه المؤمن من الخلال) جس کا پڑوسی بھوکا رہا اور اُس نے خود سیر ہو کر رات گزاری ، وہ مومن نہیں۔ ان ارشادات کے باوجود بعض پڑوسی ایسے بھی ہیں جو خود مالک کو اس کی اپنی دیوار پر بھی شہتیر رکھنے میں مانع ہوتے ہیں۔ بعض فقہاء کے نزدیک جِدَارُہ کی ضمیر کا مرجع مالک دیوار سے متعلق ہے۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۳۸) اس تاویل سے ہمسائے کے سلوک کی برائی اور بھی زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ ضمیر خواہ پڑوسی کی طرف لوٹے خواہ مالک دیوار کی طرف، دونوں صورتوں میں ارشادِ نبوی کا مفہوم واضح ہے کہ پڑوسیوں کو ایک دوسرے کی ضرورت کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر ان میں سے کوئی دوسرے کی دیوار سے ایسا فائدہ اٹھانا چاہتا ہو جو نقصان دہ نہیں اور پڑوسی مانع ہو، تو اس کا یہ فعل ظلم ہوگا مگر قابل تعزیر نہیں۔ باب ۲۱ : صَبُّ الْخَمْرِ فِي الطَّرِيقِ راستے میں شراب کا بہانا ٢٤٦٤: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ۲۴۶۴: محمد بن عبدالرحیم ابوکی نے مجھ سے بیان عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا کیا کہ عفان نے ہمیں خبر دی۔ حماد بن زید نے ہم حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ سے بیان کیا۔ ( انہوں نے کہا: ) ثابت نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ وَكَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ کہ میں ابوطلحہ کے گھر (ایک مجلس میں ) لوگوں کا ساقی الْفَضِيحَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ تھا اور ان دنوں ان کی شراب کھجور سے تیار ہوتی تھی۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم نے ایک منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کرے۔ توجہ سے سنو! شراب حرام کی گئی ہے۔ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ: فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: (حضرت انس) کہتے تھے : اس پر مجھے ابوطلحہ نے کہا: اخْرُجْ فَأَهْرِفْهَا فَخَرَجْتُ فَهَرَقْتُهَا باہر نکلو اور اسے اُنڈیل دو۔ میں باہر گیا اور وہ انڈیل فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ بَعْضُ دى اور وہ مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی۔ بعض لوگ کہنے الْقَوْمِ: قَدْ قُتِلَ قَوْمٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ لئے: ایسے لوگ بھی قتل کئے گئے ہیں جن کے پیٹوں میں فَأَنْزَلَ اللهُ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا شراب تھی ۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ جُنَاحٌ فِيمَا ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور صالح عمل بجالائے