صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 479
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۷۹ ٤٦- كتاب المظالم طَعِمُوا ( المائدة : ٩٤) الْآيَةَ۔ ہیں جو وہ کھاپی چکے ہیں اس کی وجہ سے ان پر کوئی گناہ نہیں۔ إطرافه ٢٦١٧ ، ٤٦٢٠، ٥٥٨٠ ، ٥٥٨٢ ٥٥٨٣، ٥٥٨٤ ٥٦٠٠، ٥٦٢٢، ٧٢٥٣ تشريح : صَبُّ الْخَمْرِ فِي الطَّرِيقِ : گلی کوچے بھی فاہ عامہ سے تعلق رکھتے ہیں جن میں۔ لھتے ہیں جن میں سب باشندوں کا ہو۔ اشتراک ہے۔ آیا یہ اشتراک کسی کو حق دیتا ہے کہ ان میں ایسا تصرف کرے جو دوسروں کے لئے تکلیف دہ مثلاً کوڑا کرکٹ ، گندگی یا بد بودار پانی پھینکے۔ ظاہر ہے کہ ایسا تصرف جائز نہیں بجز اس کے کہ ایسی صورت پیش آئے جس میں اصلاح مقصود ہو جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے شراب کی حرمت کا اعلان سنتے ہی مٹکوں کی شراب گلی کوچوں میں بہادی۔ مہلب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۳۹) (عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحه ۱۱) فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ : ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوطلحہ اور حضرت انس ہی نے نہیں بلکہ دوسرے صحابہ کرام نے بھی اطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔ معنونہ مسئلہ کی یہ صورت استثنائی ہے۔ اس سے جواز پیدا نہیں ہوتا کہ گھر کی گندگی اٹھا کر گلیوں میں پھینک دی جائے کہ گھر صاف ہو جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ عنوان باب مصدر یہ رکھا ہے۔ ابن تین ۔ اتین نے اس رائے کا رائے کا بھی اظہار کیا ہے کہ مندرجہ بالا واقعہ ابتدائی لہ مندرجہ بالا واقعہ ابتدائی زمانہ کا ہے؛ جب معاشرہ کی حالت غیر منتظم تھی اور قواعد تمدن و آداب مرتب نہیں ہوئے تھے۔ موجودہ صورت تنظیم میں اجازت نہیں کہ گلی کوچوں میں پانی وغیرہ پھینک کر دوسروں کے لئے تکلیف کی صورت پیدا کی جائے۔ جائے۔ سحنون تو کنوئیں کے پانی کا نکاس کرنے میں بھی احتیاط کی ہدایت کہ ہیں۔ جس سے گلی کوچے میں کیچڑ وغیرہ پیدا ہو کر رہ گزروں کے لئے چلنا مشکل ہو جائے ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ۱۱) اس تعلق میں کتاب الأشربه، باب نزل تحريم الخمر بھی دیکھئے۔ کرتے قَدْ قُتِلَ قَوْمٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ فَانْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ۔۔۔۔۔۔ یہ ایک طبعی سوال تھا جو شراب کی حرمت کا اعلان ہونے پر بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوا کہ غزوہ بدر واحد میں بعض صحابہ شہید ہو۔ صحابہ شہید ہوئے اور ان کے پیٹ میں شراب جیسی حرام نئے تھی۔ وحی الہی نے اس شبہ کا ازالہ کیا اور فرمایا ہے: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَامَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَاحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (المائده : ۹۴) جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کئے ہیں اُن پر کوئی گناہ نہیں ، اُس کی وجہ سے جو انہوں نے کھایا۔ اگر انہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے اور عمل صالح بجالائے۔ پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے۔ پھر تقویٰ اختیار کیا اور اپنے ایمان اور عمل کو کمال تک پہنچایا۔ اور اللہ حسنین سے محبت رکھتا ہے۔ احسان حسن سے مشتق ہے اور اس کے معنے اتقان کے ہیں۔ یعنی کسی عمل کو ایسے عمدہ طریق سے کرنا کہ حسن کا ر نمایاں ہو۔ تقومی کے معنے ہیں کمال احتیاط سے کام لینا۔ اس آیت میں تقویٰ کا لفظ تین دفعہ لایا گیا ہے جس سے تقویٰ کے مدارج کی طرف توجہ دلانا