صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 473
صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۷۳ ٤٦- كتاب المظالم عِيَالَنَا ؟ فَقَالَ: لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ سے اپنے بچوں کو کھلاؤں؟ آپ نے فرمایا: یہ تم پر تُطْعِمِيهِمْ بِالْمَعْرُوْفِ۔ کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم انہیں دستور کے مطابق کھلاؤ۔ صلى الله اطرافه: ۲۲۱۱، ۳۸۲۵، ٥٣٥٩، ٥٣٦٤، 5370، 6641، 7161، 7180۔ ٢٤٦١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۴۶۱ : عبد الله بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ لیث نے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ عَنْ ہم سے بیان کیا، کہا: یزید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَامِرٍ قَالَ: قُلْنَا ابوالخیر سے ، ابوالخیر نے بخیر نے عقبہ بن عامر سے روایت کی۔ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ وہ کہتے تھے : ہم نے نبی ﷺ سے کہا: آپ ہمیں باہر تَبْعَثُنَا فَتَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَّا يَقْرُوْنَا فَمَا تَرَى کہتے ہیں ہیں اور ہم ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں جو فِيْهِ فَقَالَ لَنَا: إِنْ تَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأُمِرَ لَكُمْ ہماری ضیافت نہیں کرتے۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر تم کسی قوم کے پاس اترو۔ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا فَإِنْ لَّمْ پھر جو مہمان کیلئے چاہیے، اتنا تمہارے لئے کر دیں تو تم يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ۔ قبول کرو اور اگر نہ کریں تو پھر اُن سے مہمان کا حق لو۔ طرفه: ٦١٣٧۔ تشريح : قِصَاصُ الْمَظْلُومِ إِذَا وَجَدَ مَالَ ظَالِمِهِ: فقہاء نے قصاص مظالم کے معلق یہ سوال اُٹھایا ہے کہ کیا مظلوم جب اُسے اُسے موقع ملے ظلم کا بدلہ خود بخود لے کا بدلہ خود بخود لے سکتا ہے یا نہیں؟ عنوان باب میں محمد بن -------- ہے؟ سیرین کا فتوی اثبات میں بحوالہ آیت نقل کیا ہے: وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّبِرِينَ (النحل : ۱۲۷) اگر تم ( زیادتی کرنے والوں کو سزا دو تو جتنی تم پر زیادتی کی گئی ہے، اتنی ہی سزا دو اور اگر تم صبر کرو گے تو صبر کرنے والوں کے حق میں یہ امر بہتر ہوگا۔ اس حوالے سے افراد کو قصاص لے لینے کا حق ظاہر ہوتا ہے کہ موقع ملے تو جتنا کسی کا مال مویشی غصب ہوا ہو ، ظالم کے مال مویشی سے لے لے۔ یہ فقہی مسئلہ الظفر کے نام سے مشہور ہے۔ اس لفظ کے معنے ہیں: موقع پانا، قدرت حاصل ہونا۔ شارحین کا خیال ہے کہ امام بخاری کا رجحان امام محمد بن سیرین کے مذہب کی تائید میں ہے۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۳۴) مگر یہ درست نہیں ۔ عنوان باب شرطیہ ہے اور اس کا جواب محذوف ۔ جس سے نہ امام موصوف کا قبول ثابت ہے نہ عدم قبول ۔ باب کے تحت جو دو روایتیں نقل کی گئی ؟ کی گئی ہیں اُن کا تعلق مظالم والے حقوق سے نہیں۔ ان کا تعلق ان حقوق سے ہے جو عرف عام سے متعلق ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ محمد بن سیرین کی رائے سے متفق نہیں۔ اس تعلق میں باب ۶ و باب ، ابھی دیکھئے۔ امام ترندی نے بھی اس بارہ میں کی اس بارہ میں روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض صحابہ کو زکوۃ وصول کرنے کی غرض سے قبائل کی طرف بھیجتے تو نہ وہ زکوۃ دیتے اور نہ مہمان نوازی کرتے۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے