صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 23 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 23

صحيح البخاری جلدم بَاب ١٠ : التِّجَارَةُ فِي الْبَحْرِ سمندر میں تجارت کرنا ۳۴- كتاب البيوع وَقَالَ مَطَرٌ: لَا بَأْسَ بِهِ وَمَا ذَكَرَهُ اللهُ اور مطر ( بن طہمان) نے کہا: اس میں کوئی اندیشے کی فِي الْقُرْآنِ إِلَّا بِحَقِّ ثُمَّ تَلَا : وَتَرَى بات نہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حق بات کا الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ ذکر فرمایا ہے۔پھر انہوں نے ( یہ آیت پڑھی: تو فضله (النحل : ١٥) وَالْفُلْكُ السُّفُنُ جہازوں کو دیکھتا ہے کہ وہ سمندر میں پانی کو چیرتے ہوئے چلے جارہے ہیں اور تا تم اللہ کے فضل کی جستجو کرو۔الْوَاحِدُ وَالْجَمْعُ سَوَاءٌ وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ( لفظ ) الفلك مفرد اور جمع کے لئے ایک سا ہے۔تَمْخَرُ السُّفْنُ الرِّيْحَ وَلَا تَمْخَرُ الرِّيْحَ اس سے مراد بڑی کشتیاں ہیں۔اور مجاہد نے کہا: کشتیوں مِنَ السُّفْنِ إِلَّا الْفُلْكُ الْعِظَامُ۔میں سے وہی ہوا کو پھاڑتی ہیں جو بڑی بڑی ہوں۔٢٠٦٣: وَقَالَ اللَّيْتُ : حَدَّثَنِي ۲۰۶۳ اور لیث نے کہا: جعفر بن ربیعہ نے مجھ سے جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بیان کیا انہوں نے عبد الرحمن بن ہرمز سے، انہوں هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہ عَنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِّنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ خَرَجَ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو سمندر میں الْبَحْرِ فَقَضَى حَاجَتَهُ وَسَاقَ سفر پر گیا تھا اور اپنی ضرورت اُس نے پوری کی اور الْحَدِيثَ۔حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ: ساری حدیث بیان کی۔عبد اللہ بن صالح نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث نے مجھے اس کے متعلق بتایا۔حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بِهِ۔اطرافه: ١٤٩٨، ۲۲۹۱، ۲٤٠٤، ٢٤۳۰، ٢٧٣٤، ٦٢٦١۔تشریح : التِّجَارَةُ فِي الْبَحْرِ : بعض فقہاء نے بحری سفرکے خلاف فتوی دیاہے کہ سمندر کا سن گل خوف اور مخاطرہ نفس ہے جو منشاء آیت لَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: ۱۹۶) کے خلاف ہے۔یعنی اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۱۷۸) از روئے سیاق کلام آیت کا یہ مفہوم نہیں بلکہ اس کے بنکس یہ ہے کہ اگر انفاق فی سبیل اللہ میں کوتاہی کرو گے تو ہلاک ہو جاؤ گے۔غرض اس باب میں انہی فقہاء