صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 470 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 470

صحيح البخاری جلدم ٤٦- كتاب المظالم سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ (البقره: ۲۰۵ تا ۲۰۷) اور بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی باتیں اس دنیا کی زندگی سے متعلق تجھے پسندیدہ معلوم ہوتی ہیں اور وہ بات کرتے وقت اللہ کو اس (اخلاص) پر جو ان کے دل میں ہے، گواہ ٹھہراتے جاتے ہیں۔حالانکہ وہ ( در حقیقت ) سب جھگڑالوؤں سے زیادہ جھگڑا کرنے والے ہوتے ہیں۔اور جب حاکم ہو جاتے ہیں تو فساد پیدا کرنے اور کھیتی باڑی اور مخلوق کو ہلاک کرنے کی غرض سے سارے ملک میں دوڑتے پھرتے ہیں اور اللہ فساد پسند نہیں کرتا۔اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تو عزت کی پیچ انہیں گناہ پر ابھارتی ہے۔ایسے شخص کے لئے جہنم کافی ہے اور وہ یقینا بہت برا ٹھکانہ ہے۔مظالم کے تعلق میں محولہ بالا آیت اس لحاظ سے اہمیت رکھتی ہے کہ ظلم کے بواعث میں سے دنیا کی حرص کے علاوہ حکمرانی کا غرور بھی ہے۔پہلی آیت کا تعلق دنیا کی حرص سے اور دوسری آیت کا تعلق حکومت کے غرور سے ہے۔دونوں انسان کو اندھا کر دیتے ہیں۔جس سے وہ غیروں کے حقوق پامال کرنے پر دلیر ہو جاتا ہے اور یہ حرص اور غرور قوائے عطیہ اور جذبات نفسانیہ پر اس قدر غالب ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا خوف دل سے اٹھ جاتا ہے اور اگر سمجھایا جائے تو ظالم اسے اپنی عزت نفس کے خلاف سمجھ کر اور زیادہ بگڑتا ہے۔اَلدُّ الْخِصَامِ۔الدُّ لِڈ یا لنڈ سے ہے جس کے معنے ہیں سختی سے جھگڑنا۔الہ افعل کے وزن پر اسم تفضیل ہے؛ پرلے درجے کا جھگڑالو۔لدید کے معنے ہیں : کان سے نچلا گردن کا حصہ اور تلد د کے معنی ہوتے ہیں ، گردن دائیں بائیں پھیری۔جیسے ایک جھگڑالو جھگڑے کے وقت ادھر ادھر اپنی گردن پھیرتا ہے۔جس جہت سے بھی دلائل دے کر اسے سمجھانے کی کوشش کی جائے۔اس جہت سے وہ اپنا مطلب نکالنا چاہتا ہے اور بہٹ نہیں چھوڑتا۔(لسان العرب - لدد) حدیث نبوی میں ایسا شخص نہایت ہی قابل نفرت قرار دیا گیا ہے۔ایسے حریص مغرور اور ضدی شخص سے ظلم کے تعلق میں جس قسم کے افعال صادر ہوتے ہیں اُن کی تفصیل ابواب ذیل میں بیان کی گئی ہے۔ان میں سے قابل ذکر د و نقص باب ۱۶، ۷ میں بیان کئے گئے ہیں۔بَاب ١٦ : إِثْمُ مَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ اُس شخص کا گناہ جو باطل سے متعلق جھگڑا کرے، وہ جانتا ہو کہ یہ باطل ہے ٢٤٥٨: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۲۴۵۸: عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ انہوں نے کہا کہ ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔انہوں عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ نے صالح ( بن کیسان سے ) صالح نے ابن شہاب أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنْ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ مجھے خبر دی۔حضرت زینب بنت ام سلمہ نے انہیں بتایا