صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 469
صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۶۹ ٤٦- كتاب المظالم وَسَلَّمَ الْجُوْعَ فَدَعَاهُ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ لَّمْ کے چہرے سے معلوم کیا کہ آپ کو بھوک ہے۔ يُدْعَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ چنانچہ اُس نے آپ کو کھانے کے لئے بلایا اور ان وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا قَدِ اتَّبَعَنَا أَتَأْذَنُ لَهُ؟ کے ساتھ ایک اور آدمی ہو لیا جو بلایا نہ گیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی ہمارے ساتھ آگئے قَالَ : نَعَمْ۔ اطرافه: ٢۰۸۱، 5434، 5461۔ ہیں۔ کیا تم انہیں اجازت دیتے ہو؟ اُس نے کہا: ہاں۔ تشريح : إِذَا أَذِنَ إِنسَانَ لَاخَرَ شَيْئًا جَازَ : ظلم کا ایک ادنی سامان بھی انسان کے عمل ہی نہ ہونا چاہیے تا کہ اس کا عمل ظلم کی ہر قسم کی آمیزش سے پاک وصاف ہو۔ یہی ما سے پاک وصاف ہو۔ یہی مفہوم ہے تزکیہ نفس کا ۔ بعض باتیں بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہیں لیکن اگر وہ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دی جائیں تو انہیں سے ظلم کا بیج نفس میں بویا جاتا ہے جو بڑھتا ہے اور بڑھ کر بڑی بڑی باتوں میں اپنا اثر نمایاں کرتا ہے۔ مثلاً چند آدمیوں کے سامنے پھل رکھے گئے ہیں۔ اگر کوئی بجائے ایک دانہ انگور یا کھجور اٹھانے کے دو دو دانے اُٹھاتا ہے تو یہ حرکت گو معمولی ہے لیکن حرص کو ظاہر کرتی ہے اور اس میں دوسروں کی حق تلفی ہے اور ناشائستگی بھی۔ شارع اسلام نے یہ حرکت ناپسند کی اور ہدایت فرمائی کہ دوسروں سے اجازت لے لی جائے تو مضائقہ نہیں ورنہ یہ فعل ایک ظلم ہوگا جو دنایت اور حرص کو ظاہر کرنے والا ہے اور یہ حرص ہی بڑے بڑے مظالم کا باعث ہوتی ہے۔ باب کا یہی مفہوم واضح کرنے کی غرض سے دور روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ بَاب ١٥ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ (البقرة: ٢٠٥) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: وہ جھگڑالو ہے ٢٤٥٧ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ ۲۴۵۷: ابو عاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ ابن جریج سے ، ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ۔ اطرافه: ٤٥٢٣، ٧١٨٨ نے فرمایا: آدمیوں میں سب سے زیادہ قابل نفرت اللہ کے نزدیک وہ آدمی ہے جو جھگڑالو ہو۔ تشريح : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَهُوَ الَهُ الْخِصَامِ: : عنوان باب آیت کریمہ سے قائم کیا گیا ہے۔ گویا یہاں سے نیا مضمون شروع ہوتا ہے جو بعد - بعد کے ابواب سے تعلق رکھتا ہے۔ پوری آیت یہ ہے: وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ يُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ لا وَهُوَ الدُّ الْخِصَامِ وَإِذَا تَوَلَّى