صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 468
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۶۸ ٤٦- كتاب المظالم شارحین نے مذکورہ بالا باب قائم کرنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اکثر احناف اشیائے منقولہ پر جو چھینی جاسکتی ہیں، غصب کا اطلاق کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک غیر منقولہ پر اس لفظ کا اطلاق نہیں ہوتا جو درست نہیں۔ ( عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۲۹۸، ۲۹۹) ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۳۰) بَاب ١٤ : إِذَا أَذِنَ إِنْسَانٌ لِآخَرَ شَيْئًا جَازَ جب کوئی انسان دوسرے کو کسی امر کی اجازت دے تو وہ کر سکتا ہے ٢٤٥٥: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۲۴۵۵: حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَبَلَةَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ جبلہ (بن سحیم ) سے روایت فِي بَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَصَابَنَا سَنَةٌ ہے کہ انہوں نے کہا:) مدینہ میں ہم عراقیوں میں فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقْنَا التَّمْرَ فَكَانَ شمار ہوتے تھے۔ ہم پر قحط آیا۔ ابن زبیر میں کھجوریں کھانے کو دیا کرتے تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ہمارے پاس سے گزرتے تو کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو کھجور میں اکٹھی کھانے سے وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ إِلَّا أَنْ منع فرمایا ہے۔ البتہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ۔ بھائی سے اجازت لے لے۔ اطرافه: ٢٤٨٩، ٢٤٩٠، ٥٤٤٦۔ ٢٤٥٦ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۲۴۵۶ ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ: أَنَّ رَجُلًا مِّنَ ابو وائل سے، ابووائل نے حضرت ابو مسعود سے الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ كَانَ لَهُ روایت کی کہ کسی انصاری شخص کا، جسے ابوشعیب کہتے غُلَامٌ لَحَامٌ فَقَالَ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ : اصْنَعْ تھے ایک غلام تھا جو قصاب تھا۔ ابو شعیب نے اُسے لِي طَعَامَ خَمْسَةٍ لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ :کہا: میرے لئے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کرو۔ شاید صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دوں ۔ آپ سمیت وَأَبْصَرَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پانچ آدمی ہوں گے اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم