صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 467 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 467

صحيح البخاري - جلد ۴ ۶۷ ٤٦- كتاب المظالم تشریح : المُ مَنْ ظَلَمَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ : سابقه ابواب بطور تمهد ؟ اب بطور تمہید ہیں۔ اب مظالم کی نوعیت سے ہ مسائل شروع ہیں۔ تنازعات ظلم و تعدی کا بیشتر حصہ غصب اراضی ۔ اراضی سے تعلق رکھتا ہے۔ زیر باب تین متعلقه من حدیثیں منقول ہیں۔ ان میں سے دو کا تعلق اس ظلم کی شدت سے ہے؟ ہے جس کا اظہا ر سات زمینوں کا طوق ڈالے جانے سے کیا گیا ہے۔ یہ تمثیلی اسلوب بیان ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب الزکوۃ باب ۳ روایت نمبر ۱۴۰۳، کتاب بدء الخلق باب ۲ روایات نمبر ۳۱۹۵- زمین بہت سی خیرات و برکات کا مخزن ہے اور ضروریات زندگی کا ایسا کفیل جو نہ ختم ہونے و والا ہے۔ اس کے چھین لینے کے یہ معنی ہیں کہ ایک کنبے کے کئی افراد کو غیر محدود عرصہ کے لئے ایک نہ ختم ہونے والے ذریعہ معاش سے محروم کر دیا جائے ۔ اس لئے اس ظلم کی شدت ذہن نشین کرنے کی غرض سے اس کی پاداش تمثیلاً بیان کی گئی ہے۔ علامہ خطابی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: يَكُونُ كَالطَّوقِ فِي عُنُقِهِ لَا أَنَّهُ طُوقَ حَقِيقَةً، یعنی طوق گردن ایک مثال ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ فی الواقع زمینیں گردن میں ڈالی جائیں گی۔ اس مفہوم کی تائید تیسری روایت ( نمبر ۲۴۵۴) کرتی ہے۔ جس میں لفظ طوق کی جگہ خَسْف ہے۔ خَسْف کے معنے ہیں: زمین میں دھنسنا، ہلاکت و ذلت ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۳۰) أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ ۔۔۔۔ : باب کی پہلی روایت سے متعلق شارحین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت سعید بن زید بن عمر و بن نفیل قریشی عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور وہ ابتداء میں مسلمان ہوئے تھے اور مستجاب الدعوات تھے۔ مروان کے عہد امارت میں اروٹی بنت اولیس نے شکایت کی کہ حضرت سعید نے ان کا ایک قطعہ زمین جو عقیق وادی میں واقع ہے اپنی اراضی میں شامل کر لیا ہے۔ مروان نے قریش کے چند آدمی بھیجے کہ انہیں سمجھائیں۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے زمین اسے دے دی اور کہا کہ یہ راست گوئی سے کام نہیں لے رہی۔ اللہ تعالیٰ اسے اندھا کر کے ہلاک کرے گا اور اس کا انجام اچھا نہ ہوگا۔ چنانچہ آخر عمر میں اروی کی بینائی جاتی رہی اور وہ اپنے ہی کنوئیں میں گر کر مرگئی۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے وہ حدیث بھی بیان کی جس کا ذکر روایت نمبر ۲۴۵۲ میں ہے۔ عبدالرحمن بن عمر و بن سہل بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہیں مروان نے کروٹی کا جھگڑا چکانے کے لئے بھیجا تھا۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۲۹، ۱۳۰ ) ( عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۲۹۸) مذکورہ بالا تمثیل کے تعلق میں کتاب الزکوۃ تشریح باب ۲۸ روایت نمبر ۱۴۴۳ بھی دیکھئے۔ لَيْسَ بِخُرَاسَانَ فِي كُتُبِ ابْنِ الْمُبَارَكِ: عبد اللہ بن مبارک شیخ بخاری نے جو کتا میں خراسان میں تالیف کیں اُن میں مذکورہ بالا حدیث نہ تھی۔ بصرہ میں انہوں نے اپنے شاگردوں کو لکھائی۔ صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں قَالَ أَبُو عَبْدِ اللہ سے پہلے کے یہ الفاظ نہیں ہیں: قَالَ الْفَرْبَرِيُّ قَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ أَبِي حَاتم ۔۔۔۔ فریبری کا قول ہے کہ ابو جعفر محمد بن ابی حاتم وراق نے انہیں بتایا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے مذکورہ بالا حدیث بیان کی ۔ (دیکھئے صحیح البخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی، زیر باب هذا ) یہ ابو جعفر امام موصوف کے کا تب تھے اور ان کا پیشہ کاغذوں کی صنعت اور تجارت تھی۔ جس کی وجہ سے وہ وزاق کے نام سے مشہور ہوئے ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۳۱)