صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 462
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۴ ٤٦- كتاب المظالم وغیرہ امور سے بذریعہ معافی استحلال اور استبراء کے قائل تھے۔ اُن کے نزدیک مالی نقصان کی تلافی جب تک نہ ہو ظالم زیر بار رہے گا۔ امام مالک کے نزدیک مالی ظلم کا تدارک تو ہو سکتا ہے کیونکہ قرآن مجید فرماتا ہے : وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيلٍ إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِيْنَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ) وَلَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِه (الشوری: ۴۲ تا ۴۴) اور جو لوگ اپنی ذات پر ظلم کئے جانے کے بعد مناسب بدلہ لے ۔ ابدلہ لے لیتے ہیں تو ان پر کوئی الزام نہیں۔ الزام تو صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے اور زمین میں بغیر میں بغیر کسی حق کے زیادتی کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دردناک سزا ہو گی اور جس نے صبر کیا اور معاف کیا تو اُس کا یہ کام بڑی ہمت والے کاموں میں سے ہے؟ جو اس کی مضبوطی کا باعث ہوگا۔ اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ ہتک عزت کرنے والے ظالم کے وارث کے لئے اس کے ظلم کے تدارک کی کوئی صورت نہیں۔ سوائے اس کے کہ مظلوم ظالم کو خود معاف کر دے۔ خطابی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر غیبت وغیرہ کا علم اس شخص کو ہو جائے جس کی نسبت غیبت کی گئی ہے تو غیبت کرنے والا اس سے معافی مانگے ، ورنہ استغفار کرے۔ قاسم بن محمد تو جس سے شکایت پیدا ہوتی خود بخود اُس کو معاف کر دیتے۔ یہ انتظار نہ کرتے کہ ان کی غیبت کرنے والا آئے اور معافی طلب کرے۔ علامہ عینی نے محمد بن سیرین سے متعلق واقعہ لکھا ہے کہ ایک شخص نے ان کی غیبت کی اور پھر وہ ان کے پاس آیا اور معافی طلب کی اور ان سے عرض کیا کہ وہ اس گناہ سے اس کو سبکدوش کر دیں۔ انہوں نے جواب دیا: إِنِّي لَا أُحِلُّ مَا حَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى وَلَكِنْ مَّا كَانَ مِنْ قِبَلِنَا فَانْتَ فِي حِل یعنی جو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، میں اُسے حلال نہیں کر سکتا لیکن جو بات ہمارے متعلق ہوئی ہے ، تم اُس میں آزاد ہو۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۰ صفحہ ۲۹۴) غرض اس قسم کے اختلاف کی وجہ سے عنوان باب میں استفتاء کی صورت پیش کر کے اس کا جواب محذوف کر دیا ہے کہ کوئی معین فتوئی اس بارے میں صادر نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا تعلق مختلف حالات سے ہے۔ بَاب ۱۱ : إِذَا حَلَّلَهُ مِنْ ظُلْمِهِ فَلَا رُجُوْعَ فِيْهِ مظلوم ظالم کو اس کے ظلم کی معافی دیدے تو پھر وہ اس (بیان ) سے رجوع نہیں کر سکتا ٢٤٥٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۲۴۵۰ محمد بن مقاتل ) نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ بن مبارک ) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا : ) عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : وَاِن سے ، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آیت وَأَنِ امْرَأَةٌ ۔۔۔ سے مراد یہ امْرَأَةً۔ أَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے سختی، اعْرَاضًا (النساء: ۱۲۹) قَالَتِ : الرَّجُلُ بد معاملگی اور عدم توجہی ( یا بے رغبتی ) کا اندیشہ ہو تو