صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 447
صحيح البخاری جلدم نکے ہم ہوم مِنْهُ الْجِبَالُ ٤٦- كتاب المظالم کر چکے ہیں اور اُن کی سب تدابیر اللہ کے پاس محفوظ فَلَا تَحْسَبَنَّ اللهَ مُخْلِفَ وَعْدِم رُسُلَهُ ہیں اور اُن کے حیلے ایسے تھے کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔سو ہرگز نہ سمجھو کہ اللہ اپنے اس وعدے کے إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ خلاف کرنے والا ہے جو اپنے رسولوں سے کر چکا (ابراهيم : ٤٥ - ٤٨) ہے۔اللہ یقیناً غالب ہے اور سزا دینے والا ہے۔قتادہ نے ابو المتوکل ناجی سے، انہوں نے حضرت ٢٤٤٠: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ ۲۴۴۰ اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ معاذ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي بن ہشام نے ہمیں خبر دی ( انہوں نے کہا:) میرے أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّل باپ نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے قتادہ سے، النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوسعید نے اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول الله ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ جب مؤمن دوزخ سے نجات پائیں گے وہ جنت اور النَّارِ حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دیئے جائیں گے۔پھر وہ ایک دوسرے سے ان ظلموں کا بدلہ لیں فَيَتَقَاصُّونَ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي گے جو دنیا میں ان کے درمیان ہوئے۔یہاں تک کہ الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا نُقُوا وَهُذِبُوْا أُذِنَ لَهُمْ جب وہ ہر نقص سے پاک وصاف کر دیئے جائیں بِدُخُولِ الْجَنَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ گے تو ان کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ بِمَسْكَنِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ جائے گی۔اُسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا۔جان ہے؟ اُن میں سے ہر شخص جنت میں اپنے اپنے ٹھکانے سے متعلق زیادہ علم رکھنے والا ہوگا، بہ نسبت اس علم کے جو وہ اپنے دنیاوی مکان کا رکھتا تھا۔وَقَالَ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ اور یونس بن محمد نے بھی کہا کہ شیبان نے ہمیں بتایا کہ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّل۔قتادہ سے روایت ہے کہ ابو المتوکل نے ہمیں یہی بتایا۔طرفه: ٦٥٣٥۔