صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 20 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 20

صحيح البخاری جلدم ۳۴- كتاب البيوع ابْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَا: كُنَّا سے صرافی کی بابت دریافت کیا تو ان دونوں نے تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ دونوں تاجر تھے اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ سے صرافی کی بابت پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اگر فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ وَإِنْ دست بدست، نفقد بہ نقد ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اور اگر كَانَ نَسِيْئًا فَلَا يَصْلُحُ۔بعد کوادا کیا جائے تو درست نہیں۔اطرافه: ۲۱۸۰-۲۱۸۱، ٢٤۹۷ - ٢٤٩٨، ٣٩٣٩ - ٣٩٤٠۔تشریح : التجارة في البر : مری اور بحری تجات کے تعلق میں تین باب ہیں۔ان میں سے پہلے باب (نبرد) میں سورہ نور کی آیت نمبر ۳۸ کا حوالہ دیا گیا ہے: فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ لا يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ 0 رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَوةِ * يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُه لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يُشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ ٥ (النور: ۳۷ تا ۳۹ ) وه چراغ جوانوار الہیہ سے منور ہیں، ایسے گھروں میں ہیں جن کے بلند کئے جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دے دیا ہے اور ان میں اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔ان میں اس کی تیج کی جاتی ہے۔صبح کے اوقات میں بھی اور شام کے اوقات میں بھی۔( یہ ذکر کرنے والے ) مرد وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے سے اور زکوۃ دینے سے نہ تجارت غافل کرتی ہے نہ سودا سلف۔وہ اُس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پھٹ جائیں گی۔اللہ اپنے فضل سے ایسے مردوں کو اُن کے اعمال کی بہتر سے بہتر جزا دے گا اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے رزق بغیر حساب دیتا ہے۔عنوان باب میں مادہ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ محولہ بالا آیت کا تعلق صحابہ کرام سے ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نظر تربیت پائی۔ایک وہ وقت تھا کہ اُن میں سے بعض خطبہ جمعہ کے دوران میں منڈی کی طرف دوڑ پڑے۔پھر اُن کی حالت اُس وصف کی مصداق ہو گئی ، جس کا بیان آیت کریمہ میں ہے۔اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مربیانہ شان نمایاں ہے۔اس کی تائید حضرت ابن عمر کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ صحابہ کرام بازار میں اپنے اپنے تجارتی کاروبار میں مشغول ہوتے۔جو نہی نماز کا وقت ہوتا، دکانیں مقفل کر کے باجماعت نماز میں شریک ہونے کے لئے مسجد میں آجاتے تھے۔ان کی روایت میں یہ تصریح ہے کہ محولہ بالا آیت کا تعلق صحابہ کرام سے ہے۔(فتح الباری جز پہ صفحہ ۳۷۷) روایت نمبر ۶۰ ۲۰-۲۰۶۱ میں صرافہ کے جواز و عدم جواز کا ذکر ہے۔لیکن عنوانِ باب میں تجارت من حیث العموم