صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 441 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 441

صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۴۱ ۴۵ - كتاب اللقطة تشريح : هَلْ يَأْخُذُ النَّقَطَةَ وَلَا يَدَعُهَا تَضِيعُ : یہ باب سابقہ باب کے عضو کی تائید میںقائم کیا گیا ہے۔ اُٹھانے کی اجازت کا تعلق دراصل گری پڑی شئے کے محفوظ کرنے سے ہی ہے تا وہ ضائع نہ ہو جائے اور اصل مالک کو مل جائے ۔ ایسی صورت میں ملکیت یا عدم ملکیت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہی امر ذہن نشین کرانے کی غرض سے باب کا عنوان استفہامیہ قائم کر کے جواب حذف کیا ہے۔ بَاب ۱۱ : مَنْ عَرَّفَ اللُّقَطَةَ وَلَمْ يَدْفَعْهَا إِلَى السُّلْطَانِ جس نے گری پڑی چیز اٹھا کر شناخت کرائی اور وہ حاکم کے سپرد نہ کی ٢٤٣٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۲۴۳۸ محمد بن یوسف (فریابی) نے ہمیں بتایا۔ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ رَبِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ سفیان ثوری ) نے ربیعہ سے، ربیعہ نے منبعث کے مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ غلام یزید سے، یزید نے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ ایک بدوی نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ قَالَ : نبی صلی الہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کی نسبت پوچھا۔ آپ نے فرمایا: اس کا ایک سال اعلان کرتے رہو۔ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ اگر کوئی ایسا آجائے جو تمہیں اس کے تھیلے اور اس کے بِعِقَاصِهَا وَوِ كَائِهَا وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْ بِهَا۔ بندھن کا پتہ دے تو اسے دے دو۔ ورنہ اسے اپنے وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَتَمَيَّرَ وَجْهُهُ مصرف میں لے آؤ۔ اور اس نے آپ سے بھولے بھٹکے وَقَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا اُونٹ کی نسبت پوچھا۔ اس پر آپ کا چہرہ (غصہ سے ) وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: تجھے اس سے کیا؟ اس دَعْهَا حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا۔ وَسَأَلَهُ عَنْ کے ساتھ اس کی مشک ہے اور اس کے پاؤں ۔ پانی پی لیتا ہے اور درختوں سے کھاتا ہے۔ اسے رہنے دو کہ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ : هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ اس کا مالک اسے تلاش کرلے۔ اور اس نے آپ سے أَوْ لِلذَنْبِ۔ بھولی بھٹکی بکری کی نسبت پوچھا۔ آپ نے فرمایا: وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیے کی۔ اطرافه ۹۱ ، ۲۳۷۲، ۲۴۲۷، ٢٤۲۸، ٢٤٢٩، ٢٤٣٦، ٥٢٩٢، ٦١١٢۔ تشريح : مَنْ عَرَّفَ النُّقَطَةَ وَلَمْ يَدْفَعُهَا إِلَى السُّلْطَانِ : من که آیا می لاوارث اشياء حکومت کا حق ہے یا نہیں؟ مالک کے نہ ملنے پر وہ سرکاری مال خانے میں داخل کی جائیں یا نہ کی جائیں؟ ہے: