صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 440
صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۰ م ۴۵ - كتاب اللقطة سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفْلَةَ قَالَ : كُنْتُ کہ انہوں نے کہا: میں نے سوید بن غفلہ سے سنا۔ مَعَ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ وَزَيْدِ بْنِ انہوں نے کہا: میں ایک غزوہ میں سلمان بن ربیعہ اور صُوْحَانَ فِي غَزَاةٍ فَوَجَدْتُ سَوْطًا زید بن صوحان کے ساتھ تھا۔ میں نے ایک کوڑا پایا۔ (اس کو اُٹھا لیا) اُن دونوں نے مجھے کہا: اسے پھینک دو۔ فَقَالَا لِي: أَلْقِهِ قُلْتُ: لَا وَلَكِنِّي إِنْ میں نے کہا : نہیں۔ اگر میں نے اس کا مالک پالیا تو اس صلى الله وَجَدْتُ صَاحِبَهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ کو دے دوں گا۔ ورنہ میں اس سے فائدہ اُٹھاؤں گا۔ فَلَمَّا رَجَعْنَا حَجَجْنَا فَمَرَرْتُ بِالْمَدِينَةِ جب ہم لوٹے تو ہم حج کو گئے پھر میں مدینہ سے گذرا فَسَأَلْتُ أَبَيَّ بْنَ كَعْبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اور میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ فَقَالَ : وَجَدْتُ صُرَّةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کے زمانے میں ایک ہی تھیلی پائی تھی جس میں ایک سو اشرفیاں تھیں۔ میں وہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْهَا مِائَةُ دِينَارِ نبی ﷺ کے پاس لایا۔ آپ نے فرمایا : ایک سال تک فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس کا اعلان کرتے رہو۔ سو میں ایک سال تک اس کی فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ شناخت کراتا رہا۔ پھر آیا تو آپ نے فرمایا: ایک اور أَتَيْتُ فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلاً فَعَرَّفْتُهَا سال اس کا اعلان کرو اور میں اس کا ایک اور سال حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا اعلان کرتا رہا۔ پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ : ایک اور سال اس کا اعلان کرو۔ چنانچہ میں نے ایک اور سال اس کا اعلان کیا۔ پھر چوتھی دفعہ آپ کے پاس اعْرِفْ عِدَّتَهَا وَوَكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا فَإِنْ آیا تو آپ نے فرمایا: اشرفیوں کی تعداد یاد رکھو اور قیلی جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا اسْتَمْتِعْ بِهَا ۔ کا بندھن اور اُس کا ظرف پہچان رکھو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو بہتر ، ورنہ اشرفیوں سے فائدہ اُٹھاؤ۔ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ شُعْبَةَ عَنْ سَلَمَةَ بِهَذَا قَالَ : فَلَقِيْتُهُ بَعْدُ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلمہ سے روایت کی اور یہی حدیث بتائی۔ (شعبہ نے) کہا: پھر اس بِمَكَّةَ فَقَالَ : لَا أَدْرِي أَثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ کے بعد میں مکہ میں اُن سے ملا تو (سلمہ نے) کہا: میں حَوْلًا وَاحِدًا ۔ طرفه: ٢٤٢٦ نہیں جانتا کہ (سوید نے ) تین سال بتائے یا ایک سال۔