صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 437
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۳۷ ۴۵ - كتاب اللقطة ممانعت سے یہ مراد ہے کہ تصرف ملکیت کی غرض سے اٹھانا ممنوع ہے، نہ محفوظ رکھنے کی غرض ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۰۹) (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۲۷۴) یہ خیال بھی درست نہیں کیونکہ عنوانِ باب کا مقصد طریق شناخت کی کیفیت ہے نہ یہ کہ کس غرض سے اٹھائی جائے یا نہ اٹھائی جائے۔اور حوالہ جات اور روایت مندرجہ بالا میں اس امر کی صراحت ہے کہ شناخت کرنے والے کے سوا کوئی مکہ مکرمہ میں گری پڑی شئے نہ اٹھائے۔إِلَّا لِمُنْشِدٍ : لَا تَحِلُّ لَقَتَطهَا إِلَّا لِمُنْشِد میں اِلَّا لِمُنشِد کا بھی یہی مفہوم ہے کہ اگر کوئی اُٹھائے تو وہ صرف اس غرض سے اُٹھائے کہ مالک کو پہنچائی جائے جو حاجیوں کے ہجوم میں تقریبا ناممکن ہے۔چنانچہ عنوان باب ہی میں منشد کا مفہوم معرف سے واضح کیا گیا ہے۔یعنی شناخت کروانے والے کے لئے بطور استثناء اجازت ہے۔باب : لَا تُحْتَلَبُ مَاشِيَةُ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ کسی کے مویشی بغیر اس کی اجازت کے نہ دو ہے جائیں ٢٤٣٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۴۳۵: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ الله حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا يَحْلُبَنَّ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کسی شخص کے مویشی بغیر اُس کی اجازت کے نہ دو ہے۔کیا تم میں أَحَدٌ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ سے کوئی پسند کرتا ہے کہ کوئی اُس کے گودام میں آئے أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتَكْسَرَ اور اُس کے ذخیرہ کا تالہ توڑے اور اس کا اناج اُٹھالے خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ جائے۔اسی طرح ان کے مواشی کے تھن ان کے لئے ضُرُوعُ مَاشِيَتِهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ فَلَا ان کے کھانے پینے کی چیزیں جمع رکھتے ہیں۔اس لئے يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ۔کوئی کسی کے مویشی بغیر اس کی اجازت کے نہ دو ہے۔تشریح : لا تُحْتَلَبُ مَاشِيَةُ اَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ: روایت ۲۴۳۵ مختلف الفاظ سے مروی ہے۔کسی میں ہے: مَاشِيَةَ رَجُلٍ۔اور کسی میں ہے : مَاشِيَةَ أَخِيهِ " اور کسی میں مَاشِيَةَ امْرِي - عنوانِ باب میں الفاظ کی کی تحقیق و تصیح مد نظر ہے۔مستند روایت کے مطابق مذکورہ بالا نہی عام ہے۔مرد عورت، مسلم، غیر مسلم کی تخصیص نہیں۔کوئی ہو یہ جائز نہیں کہ مالک کی اجازت کے بغیر دودھ والے جانور کو دو ہے۔(فتح الباری جز ۵۰ صفحه ۱۱) (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۲۷۷) ابن ماجه ،کتاب التجارات، باب النهى ان يصيب منها شيئا الا باذن صاحبها) (معانی الآثار للطحاوى، كتاب الكراهة باب الرجل يمر بالحائط أله أن يأكل منه أم لا ، جزءم صفحه (۲۴)