صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 436
صحيح البخاري - جلدم ۴۵- كتاب اللقطة قُلْتُ لِلْأَوْزَاعِي: مَا قَوْلُهُ اكْتُبُوا لِي يَا میں نے اوزاعی سے پوچھا: ان کی اس بات کا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي کیا مطلب تھا کہ یا رسول اللہ! مجھے لکھوا دیں۔سَمِعَهَا مِنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے کہا: یہ خطبہ جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ۔اطرافه: ۱۱۲، ۶۸۸۰ علیہ وسلم سے سنا تھا۔تشریح: ساتھ نقل کی ہیں جو حضرت ابن عباس سے ایک ہی مفہوم میں مروی ہیں کہ شناخت کروانے والا ہی گری پڑی چیز اُٹھا سکتا ہے۔اگر شناخت کروانے کا ارادہ نہیں تو اُس کے لئے ایسی چیز کا اٹھانا جائز نہیں۔واو عاطفہ سے اس باب کا مضمون سابقہ باب کے مضمون سے وابستہ کر دیا گیا ہے جس میں فقہاء کے اختلاف کا ذکر ہے کہ معمولی شئے ہو تو اُٹھانے والا اسے اپنے استعمال میں لاسکتا ہے۔امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے حوالے سے نقطہ کے بارے میں نقطہ نظر ہی بدل دیا ہے کہ گری پڑی چیز کے اُٹھانے کا جو ارشاد ہے اُس کی غرض و غایت ہی یہ ہے کہ وہ مالک کو بحفاظت پہنچائی جائے۔اس غرض و غایت کے پیش نظر یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کس قسم کی شئے استعمال کی جائے اور کونسی محفوظ رکھی جائے۔سوال مندرجہ عنوانِ باب كَيْفَ تُعَرَّفُ لقَطَةُ أهْلِ مَكَّةَ کا جواب مذکورہ بالا روایت سے دیا ہے کہ بیت اللہ کے حرم میں گری پڑی شئے اُٹھانے کی اجازت محدود ہے۔صرف وہی شخص اُٹھا سکتا ہے جو شناخت کرائے۔اتنے ہجوم اور انبوہ میں شناخت کرانا نہایت مشکل ہے۔اس صورت میں ارشاد نبوی ہے کہ جہاں وہ پڑی ہو، وہیں رہنے دی جائے تا اصل مالک کو جسے جگہ کا علم ہے، حاصل کر لینا آسان ہو۔جو شخص شناخت کرانے کی غرض سے اُٹھاتا ہے اُس کے لئے یہ وقت ہے کہ وہ مناسک حج ادا کرے یا شناخت کرانے کی غرض سے مارا مارا پھرے۔جملہ كَيْفَ تُعَرَّف استفہام انکاری ہے۔علاوہ ازیں ہر شئے کے شناخت کروانے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے جس کے لئے کوئی قاعدہ متعین نہیں کیا جاسکتا۔وَقَالَ طَاوس به روایت کتاب جزاء الصيد بابا : لَا يَحِلُّ الْقِتَالُ بِمَكَّةَ، روایت نمبر ۱۸۳۴ میں دیکھئے۔وَقَالَ خَالِدٌ : يروایت کتاب البیوع باب ۲۸ روایت نمبر ۲۰۹۰ میں دیکھئے۔وَقَالَ احْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ : احمد بن سعید رباطی مراد ہیں جیسا کہ ابن طاہر نے تصریح کی ہے۔لیکن بقول ابونعیم ؛ احمد بن سعید دارمی ہیں۔علامہ ابن حجر کا خیال ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے حوالے سے اُن روایات کی طرف بھی اشارہ ہے جن میں حرم بیت اللہ کے اندر گری پڑی چیز اٹھانے کی قطعی طور پر ممانعت ہے۔امام مسلم نے بھی عبد الرحمن بن عثمان تیمی کی سند سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجیوں کی گرمی پڑی اشیاء اُٹھانے سے منع فرمایا ہے۔(مسلم، کتاب اللقطة، باب في لقطة الحاج ) فقہاء نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس كَيْفَ تُعَرَّفُ لُقَطَةُ اَهْلِ مَكَّةَ : عنوانِ باب میں وَقَالَ کہ کر تین روایتیں واؤ عاطفہ کے