صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 438
صحيح البخاری جلدم ۴۳۸ ۴۵- كتاب اللقطة ابوداؤد اور ترندی وغیرہ میں بعض روایتیں ایسی منقول ہیں جن سے پایا جاتا ہے کہ مسافر یا مضطر کے لئے قحط سالی میں جائز ہے کہ مالک یا پاسبان کی اجازت کے بغیر دودھ دوہ لے۔ایسا ہی جہاں بے تکلفی ہو وہاں بھی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔مگر بے تکلفی میں تو ایک قسم کی اجازت مقدر ہوتی ہے۔مسند امام احمد بن حنبل میں بھی ایک روایت حضرت ابو ہریرہ سے منقول ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں انہوں نے دودھ والی اونٹنیاں دیکھیں جن کے تھنوں میں دودھ رُکا ہوا جمع تھا اور وہ دودھ دوہنے کے لئے لپکے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو منع فرمایا اور کہا کہ ان کے دودھ سے خاندان کا گزارہ ہے۔کے ابن ماجہ نے بھی یہ روایت درج کی ہے۔اس روایت میں آپ کے یہ الفاظ ہیں: ایسُرُّكُمْ لَوْ رَجَعْتُمُ إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فَوَجَدْتُمْ مَا فِيْهَا قَدْ ذُهِبَ بِهِ آتَرَوْنَ ذَلِكَ عَدْلًا قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّ هَذَا كَذَلِكَ ابن ماجه ،کتاب التجارات باب النهي ان يصيب منها شيئا الا باذن صاحبها) کیا تمہیں پسند ہوگا کہ تم اپنے تو شہ خانوں کولوٹو اور دیکھو کہ جو کچھ ان میں تھا وہ غائب ہے؟ کیا تم اسے انصاف سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ بھی اسی طرح کی بات ہے۔اس روایت سے بعض فقہاء نے استنباط کیا ہے کہ اگر جانور کے مالک کو ضرورت ہو تو دوہنا جائز نہیں؛ ورنہ جائز ہوگا۔عام حکم یہی ہے کہ بغیر اجازت دوہنا جائز نہیں۔باقی رہ دوستانہ بے تکلفی وغیرہ تو اس کا تعلق حالات سے ہے۔ایک وقت تھا کہ پنجاب میں گنا، دودھ، پیر وغیرہ درختوں کے پھل کی کوئی قید نہ تھی عموماً بغیر اجازت یہ چیزیں لے لی جاتی تھیں مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ان اشیاء کی قیمت ہے اور بغیر اجازت انہیں لینا لڑائی جھگڑے کا موجب ہوتا ہے۔استثنائی حالات سے متعلق حکم الگ ہے۔یہی وجہ ہے کہ عنوان میں عام قانون کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو نمایاں کیا ہے۔باب ۹ : إِذَا جَاءَ صَاحِبُ اللُّقَطَةِ بَعْدَ سَنَةٍ رَدَّهَا عَلَيْهِ لِأَنَّهَا وَدِيْعَةٌ عِنْدَهُ اگر گری پڑی چیز کا مالک ایک سال کے بعد آئے تو وہ اُس چیز کو اُسے واپس دیدے کیونکہ وہ اس کے پاس امانت تھی ٢٤٣٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۲۴۳۶ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِيعَةَ اسماعيل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ربیعہ بن ابْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى ابي عبد الرحمن سے، ربیعہ نے منبعث کے غلام یزید الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ سے یزید نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ ابوداؤد، كتاب الجهاد، باب فى ابن السبيل يأكل من التمر ويشرب من اللبن) (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فى احتلاب المواشى بغير اذن الأرباب) (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين، مسند أبي هريرة، جز ۲۶ صفحه ۴۰۵)