صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 434
صحيح البخاری جلدم هم بم باب : كَيْفَ تُعَرَّفُ لُقَطَةُ أَهْلِ مَكَّةَ؟ اہل مکہ کی گری پڑی چیز کیسے شناخت کرائی جائے؟ ۴۵- كتاب اللقطة وَقَالَ طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ اور طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نقل کیا۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت قَالَ: لَا يَلْتَقِطْ لُقَطَتَهَا إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا۔کی کہ آپ نے فرمایا: اس (مکہ) کی گری پڑی چیز کو وہی شخص اٹھائے جو اُس کو شناخت کرائے۔وَقَالَ خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ اور خالد نے عکرمہ سے نقل کیا۔عکرمہ نے حضرت ابن ابْنِ عَبَّاسِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عباس سے ، حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَلْتَقِطْهَا إِلَّا مُعَرَّفٌ۔سے کہ آپ نے فرمایا: اس (مکہ) کی گری پڑی چیز صرف وہی اٹھائے جو اس کو شناخت کروائے۔٢٤٣٣: وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ ۲۴۳۳: اور احمد بن سعید ( رباطی) نے کہا: روح نے حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ حَدَّثَنَا ہمیں بتایا کہ زکریا نے ہم سے ذکر کیا۔انہوں نے کہا: ) عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ عمرو بن دینار نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عکرمہ سے، ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس (مکہ) کا درخت نہ کاٹا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جائے ، اور نہ وہاں کا شکار بھگایا جائے ، اور نہ وہاں کی قَالَ: لَا يُعْضَدُ عِضَاهُهَا وَلَا يُنَفَّرُ گری پڑی چیز اٹھانی جائز ہے مگر صرف اسی شخص کو صَيْدُهَا وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدِ گری پڑی چیز اٹھانے کی اجازت ہے جو اعلان وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا فَقَالَ عَبَّاسٌ : يَا کر کے اُس کو شناخت کروائے ، اور نہ وہاں کی گھاس رَسُوْلَ اللهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَقَالَ: إِلَّا کائی جائے۔اس پر حضرت عباس نے کہا: یارسول اللہ ! اذخر گھاس کو مستی کر دیجئے۔آپ نے فرمایا: اچھا اذخر الْإِذْخِرَ۔گھاس کاٹ سکتے ہو۔اطرافه : ۱۳۴۹، ۱۰۸۷ ، ۱۸۳۳، ۱۸۳۶ ، ۲۰۹۰، ۲۷۸۳ ، ۲۸۲۰، ۳۰۷۷، ۳۱۸۹، ۱۳۱۳ ٢٤٣٤: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى :۲۴۳۴ تحي بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ولید بن حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔