صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 435
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۳۵ ۴۵ - كتاب اللقطة صلى الله الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي انہوں نے کہا: یحی بن ابی کثیر نے مجھ سے بیان کیا، كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا۔ انہوں رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَی نے کہا: جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے لیے مکہ کو رَسُوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ فتح کرا دیا تو آپ لوگوں میں تقریر کرنے کے لئے فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کی۔ پھر آپ نے فرمایا قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَّكَّةَ الْفِيْلَ کہ اللہ نے مکہ کو اصحاب فیل کے حملہ سے محفوظ رکھا تھا وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُوْلَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّهَا اور اپنے رسول کو اور مومنوں کو اُس پر غلبہ دے دیا۔ لَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ مجھ سے پہلے کسی کے لئے وہ جائز نہ تھا اور میرے لئے لِي سَاعَةً مِنْ نَّهَارٍ وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ بھی دن کی ایک گھڑی ہی جائز کیا گیا اور اب میرے لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي فَلَا يُنَفِّرُ صَيْدُهَا وَلَا بعد کسی کے لئے بھی جائز نہ ہوگا۔ اس لئے اس کا شکار يُخْتَلَى شَوْكُهَا وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا نہ بھگایا جائے، اور نہ اس کے کانٹے توڑے جائیں، لِمُنْشِدٍ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيْلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ اور نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھانی جائز ہوگی مگر ایسے النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُفْدَى وَإِمَّا أَنْ يُقِيدَ شخص کے لئے جو اس کی شناخت کرانے کے لئے فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ اعلان کرے۔ اور جس کا کوئی عزیز مارا جائے تو اُسے دو لِقُبُوْرِنَا وَبُيُؤْتِنَا۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ باتوں کا اختیار ہے۔ یا تو دیت لے یا قصاص ۔ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ عباس نے کہا: اذخر کو متنی فرمادیجئے کیونکہ ہم اس کو فَقَامَ أَبُو شَاهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ اپنی قبروں اور اپنے گھروں کی چھتوں ) پر ڈالتے ہیں۔ فَقَالَ : اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اخراس مستثنی کی جاتی ہے۔ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: پھر ابوشاه کھڑ۔ را بو شاہ کھڑے ہوئے جو اہل یمن میں سے تھے۔ وہ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! ( یہ خطبہ ) مجھے لکھوادیں۔ اكْتُبُوْا لِأَبِي شَاهِ۔ الله رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوشاہ کو ( یہ ) لکھ دو۔