صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 433
صحيح البخاری جلدم ۳۳ ۴۵ - كتاب اللقطة عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَاللهُ عَنِ النَّبِيِّ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہمام بن منبہ سے، ہمام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، حضرت ابو ہریرہ لأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ السَّمْرَةَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي فَأَرْفَعُهَا لاكُلَهَا فرمایا: میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاتا ہوں ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةٌ فَأَلْقِيْهَا۔اور کبھی اپنے بستر پر کھجور گری ہوئی پاتا ہوں تو میں اُسے کھانے کے لئے اُٹھا لیتا ہوں۔پھر ڈرتا ہوں کہ کہیں صدقے کی نہ ہو اور اُسے چھوڑ دیتا ہوں۔۔تشریح: إِذَا وَجَدَ تَمْرَةً فِى الطَّرِيقِ : یہ دو ابواب ( نمبر ۶۰۵) بھی باب ہ ہی کے تسلسل میں ہیں۔روایت نمبر ۲۴۳۰ میں ایک اسرائیلی کا واقعہ اختصار سے دہرایا گیا ہے جو کتاب الکفالۃ باب ا، روایت نمبر ۲۲۹۱ میں مفصل مذکور ہے۔جس میں کمال دیانت وامانت کا ذکر ہے اور دوسرے باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غایت درجہ تقویٰ کا۔دونوں روایتوں سے اعلیٰ درجے کے نمونہ خلق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔باب ۵ کے عنوان میں کوڑے وغیرہ کا جو ذکر کیا گیا ہے، اس سے بھی بعض فقہاء کے اس خیال کی طرف اشارہ ہے کہ چھوٹی موٹی شئے استعمال کر لینے میں کوئی حرج نہیں اور لمبا عرصہ تک اعلان کرنے کرانے کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔شافعیوں کے نزدیک شئے خواہ چھوٹی ہو یا بڑی ، وہ لقطہ کی تعریف میں شامل ہے اور اُس پر نقطہ کے احکام برابر حاوی ہوں گے۔امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے نزدیک اگر چیز تلف ہونے کا ڈر ہو تو وہ استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۰۶، ۱۰۷) (بداية المجتهد، كتاب اللقطة، الجملة الثانية، الجزء الثاني صفحه ۲۳۱) مگر کیا ضروری ہے کہ ایسی گری پڑی شئے اٹھا کر استعمال کی جائے نفس کو استغناء اور بے نیازی کی صفات سے متصف رکھنا اس سے کہیں زیادہ ضروری اور زیبا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دونوں ابواب کا عنوان اِذَا سے شروع کر کے جواب شرط حذف کیا ہے اور اس بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا ہے کہ آپ وہ دانہ کھجور جو اپنے ہی گھر میں پڑا ہوا ملتا، چھوڑ دیتے ، اس خیال سے کہ مبادا صدقے کا ہو۔یہ وہ احساس تقویٰ تھا جو غایت درجہ لطیف ہے اور اسی احساس کو اپنانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔وَقَالَ زَائِدَةُ۔۔۔۔: حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کتاب البیوع باب میں بھی دیکھئے۔نیز زائدہ کی سند سے امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے۔(دیکھئے مسلم، کتاب الزکوۃ، باب تحريم الزكوة على رسول الله وعلى آله)