صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 430
صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۳۰ ۴۵ - كتاب اللقطة تشريح : ضَالَّةُ الإِبِلِ وَضَالَّةُ الْغَنَمِ: یہ دوباب کے بعد دیگرے قائم کرکے مذکورہ بالاجانوروں کو نظر میں شما شمار کیا ہے جن میں سے بکری ایسا جانور ہے جس کے ضائع ہونے کا زب ضائع ہونے کا زیادہ اندیشہ ہے اور وہ اس غرض سے ----- اپنے قبضے میں لی جا سکتی ہے کہ اس کے مالک کو پہنچادی جائے۔ روایت نمبر ۲۴۲۸ میں وارد شدہ الفاظ وَكَانَتْ وَدِيْعَةً عِنْدَہ سے ظاہر ہے کہ بھٹکی ہوئی بکری لینے والے کے پاس ایک سال تک بطور امانت رہے گی۔ یہ بھی بحث ہوئی ہے کہ آیا یہ الفاظ یزید راوی کے اپنے ہیں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے؟ از روئے تحقیق امام بخاری مذکورہ بالا الفاظ ارشاد نبوی کا ہی حصہ ہیں۔ چنانچہ باب ۹ کے عنوان میں اسی امر کی صراحت ہے اور امام مسلم نے بھی سلیمان بن بلال کی یہی روایت کی بن سعید انصاری سے نقل کی ہے۔ اس میں بھی جہاں استفادہ کی اجازت کا ذکر ہے وہاں یہ الفاظ ہیں : وَلْتَكُنْ وَدِيْعَةً عِنْدَكَ (صحیح مسلم، کتاب اللقطه باب (۱) اور چاہیے کہ وہ تیرے پاس بطور امانت رہے۔ بَاب ٤ : إِذَا لَمْ يُوْجَدْ صَاحِبُ اللُّقَطَةِ بَعْدَ سَنَةٍ فَهِيَ لِمَنْ وَجَدَهَا اگر ایک سال کے بعد بھی گری پڑی چیز کا مالک نہ ملے تو وہ اُس کی ہوگی جس نے وہ پائی ہے بیان کیا کہ ٢٤٢٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۴۲۹: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي مَمالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبد الرحمن سے، ربیعہ نے منبعث کے آزاد کردہ غلام یزید سے، عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ یزید نے حضرت زید بن خالد عنہ سے روایت کی کہ رضی عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ هُ قَالَ : جَاءَ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا رَجُلٌ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور اُس نے آپ سے گری پڑی چیز کی نسبت پوچھا۔ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ النُّقَطَةِ فَقَالَ : اعْرِفْ آپ نے فرمایا: اس کی تھیلی اور اس کا بندھن پہچان رکھو اور پھر سال بھر تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اگر اُس عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرَفَهَا سَنَةً فَإِنْ کا مالک آگیا تو بہتر ورنہ جو چاہو کرو ۔ اس نے پوچھا: جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا۔ قَالَ : بھولی بھٹکی بکری ہو تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ : هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ نے فرمایا: وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے أَوْ لِلذِنْبِ۔ قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ : مَا کی ۔ اس نے پوچھا: بھولا بھٹکا اُونٹ ہو تو اُس کے لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ متعلق کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا: تجھے اس سے کیا غرض ؟ اس کے ساتھ اس ساتھ اس کی مشک ہے اور اس کے الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ۔ پاؤں ہیں۔ پانی پی لیتا ہے اور درختوں سے کھاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا مالک اس سے آ ملتا ہے۔ اطرافه ۹۱، ۲۳۷۲، ۲۴۲۷، ٢٤۲۸، ٢٤٣٦ ، ٢٤٣٨، ٥٢٩٢، ٦١١٢۔