صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 431
صحيح البخاری جلدم ۴۵- كتاب اللقطة تشریح : إِذَا لَمْ يُوْجَدْ صَاحِبُ اللُّقَطَةِ بَعْدَ سَنَةٍ فَهِيَ لِمَنْ وَجَدَهَا: اس باپ کا مضمون پہلے باب کے مضمون سے قدرے مختلف ہے کہ اس میں تھیلی کے بارے میں یہ صراحت ہے کہ وہ ایک سال تک محفوظ رکھی جائے اور اس کے بعد جس کو وہ شئے ملی ہو، اس کی ہوگی۔اس روایت کی بناء پر عنوان باب میں ان الفاظ سے صراحت کی گئی ہے: فَهِيَ لِمَنْ وَجَدَهَا۔ان الفاظ سے فقہاء کے اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آیا پانے والا ایک سال کے بعد اس شئے میں تصرف بطور مالک کرے گا یا بحیثیت امین و محافظ؟ اس بارے میں جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اسے یہ اجازت بحیثیت امین و محافظ کے دی گئی ہے نہ کہ بطور مالک۔اور اگر ایک سال کے بعد اصل مالک آجائے اور وہ شئے موجود ہو تو وہی دیدے گا اور اگر موجود نہ ہو تو اس کی مثل یا قیمت۔شافعیوں کے نزدیک ضروری ہے کہ سال گزرنے کے بعد وہ ان الفاظ میں اعلان کرے کہ چونکہ اس کا کوئی مالک نہیں ملا اس لئے اب میں اسے اپنے استعمال میں لاتا ہوں۔جمہور کے نزدیک لفظی اعلان کی ضرورت نہیں ، نیت کافی ہے۔(فتح الباری جزء۵ صفحه ۱۰۶،۱۰۵) (عمدۃ القاری جز ۱۲ صفه ۲۷۲) اس اختلاف کے پیش نظر امام بخاری نے فَهِيَ لِمَنْ وَجَدَهَـا سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ارشاد نبوی کے بموجب وہ اس کا مالک ہوگا کیونکہ فقرہ فشانک بھا تصرف کرنے کے اختیار پر دلالت کرتا ہے۔شوافع اور داؤ د ظاہرتی نے سعید بن منصور کی روایت سے بھی یہی استدلال کیا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: وَإِلَّا فَتَصْنَعُ بِهَا مَا تَصْنَعُ بِمَالِكَ یعنی تو اس سے وہی کام لے جو اپنے مال سے لیتا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۰۵) (عمدۃ القاری جز ۲۶ صفحه ۲۷۲) یہ الفاظ امام بخاری کی تحقیق کی رو سے مستند حدیث میں نہیں۔بعض فقہاء کا یہ بھی فتویٰ ہے کہ سال کے بعد مالک اگر مل جائے تو اسے واپس کرنا ضروری نہیں اور اُن کا یہ استدلال بھی فَهِيَ لِمَنْ وَجَدَهَـا کے الفاظ سے ہے۔امام بخاریؒ نے ترتیب میں یہ باب سابقہ تین ابواب کے بعد قائم کیا ہے۔اس ترتیب سے ان کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ شانک بھا کا مفہوم سابقہ روایتوں کے مطابق ہی لیا جائے گا کہ ان چیزوں میں تصرف کی اجازت بصورت اباحت ہے نہ ملکیت۔اس سے جمہور کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۰۶،۱۰۵) بَابه : إِذَا وَجَدَ خَشَبَةٌ فِي الْبَحْرِ أَوْ سَوْطًا أَوْ نَحْوَهُ اگر کوئی سمندر میں لکڑی یا کوڑا یا اس قسم کی کوئی چیز پائے ٢٤٣٠: وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي :۲۴۳۰ اور لیٹ نے کہا: جعفر بن ربیعہ نے مجھے جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بتایا۔انہوں نے عبدالرحمن بن ہرمز سے، عبدالرحمن هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ