صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 422
صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۲۲ ۴۴- كتاب الخصومات عَلَى إِنْ رَضِيَ عُمَرُ فَالْبَيْعُ بَيْعُهُ وَإِنْ لئے خریدی، اس شرط پر کہ حضرت عمرؓ نے اگر پسند کیا لَّمْ يَرْضَ عُمَرُ فَلِصَفْوَانَ أَرْبَعُ مِائَةِ تو یہی ان کی بیع ہو گی اور اگر حضرت عمرؓ نے پسند نہ کیا دِينَارٍ۔ وَسَجَنَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ۔ تو ( جواب آنے تک ) حضرت صفوان کو چار سو دینار ملیں گے اور حضرت (عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں ( لوگوں کو قید کیا ۔ ٢٤٢٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۴۲۳: عبد اللہ بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ لیٹ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سعید بن أَبِي سَعِيدٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ ابی سعید نے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ہے عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے نجد کی طرف کچھ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ سوار بھیجے اور وہ بنی حنیفہ کا ایک شخص پکڑ لائے۔ عنه اُسے مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أَقَالِ مامہ بن اثال کہتے تھے اور انہوں نے اُس کو مسجد کے فَرَبَطُوْهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ۔ ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا۔ اطرافه: ٤٦٢ ٤٦٩، ٢٤٢٢، ٤٣٧٢۔ تشريح : الرَّبْطُ وَالْحَبْسُ فِي الْحَرَم : امام ابن جری راے میں یہ باب طاؤس کا قوی رڈ کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے؟ گیا ہے جس کے مطابق حرم حرم میں قید و بند بیت اللہ کی حرمت کے منافی ہے اور وہاں قید خانہ بنانا نا جائز ۔ عنوان باب میں بعض صحابہ کے عمل درآمد کا حوالہ دے کر مندرجہ با ا بالا حدیث سے یہ خ یہ خیال رڈ کیا گیا ہے۔ نافع بن حارث خزاعی حضرت عمر کی خلافت میں مکہ مکرمہ کے عامل تھے اور انہوں نے مشار الیہ مکان بطور قید خانہ استعمال کرنے کی غرض سے چار ہزار دینار پر خریدا اور حضرت عبداللہ بن زبیر کے حکم سے حسن بن محمد ابن حنفیہ اسی قید خانہ میں زیر حراست رکھے گئے ۔ اس کا ذکر خلیفہ بن خیاط نے اپنی تاریخ میں اور ابوالفرج اصبہانی نے اغانی * میں کیا ہے۔ یہ قید خانہ دارالندوہ کی پشت پر واقع تھا۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۹۵) مصعب بن عبدالرحمن بن عوف کے آزاد کردہ غلام عارم بھی وہاں قید کئے گئے تھے جس کی وجہ سے یہ قید خانہ بجن عارم کے نام سے مشہور ہوا۔ عمرو بن زبیر اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن زبیر کے خلاف تھے اور عمرو بن سعید بن العاص کی مہم میں شریک ہوئے جو یزید کی طرف ۔ رف سے حضرت عبداللہ بن زبیر کے خلاف بھیجی گئی تھی اور یہ عارم بھی اسی بھیجی گئی تھی اور یہ عارم بھی اسی فوج میں تھے اور لڑائی کے دوران مصعب بن عبد الرحمن کے قابو میں آگئے تھے۔ حسن بن محمد بن حنیفہ کا ذکر کثیر عزہ شاعر کے مندجہ ذیل شعر میں ہے :- كتاب الأغاني، ذکر اخبار كثير ونسبه، جزء ۹ صفحه ۱۳)