صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 423 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 423

صحيح البخاری جلدم ۳۲۳ ۴۴ - كتاب الخصومات تُخَبِّرُ مَنْ لَا قَيْتَ أَنَّكَ عَابِدٌ بَلِ الْعَابِدُ الْمَظْلُوْمُ فِي سِجْنِ عَارِمٍ یعنی تو جسے بھی ملتا ہے اسے بتاتا ہے کہ تو عبادت گزار ہے۔نہیں بلکہ عبادت گزار تو وہ مظلوم ہے جو عارم کے قید خانہ میں ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۹۵) خلاصہ یہ کہ تعزیری کاروائی کی غرض سے حرم بیت اللہ یا مسجد میں قید کرنا مکروہ نہیں سمجھا گیا۔حرمت بیت اللہ کے تعلق میں کتاب العلم باب ۳۷ کی تشریح دیکھئے جہاں قاضی ابو شریح اور عمرو بن سعید کی اس بارہ میں گفتگو کا ذکر ہے۔بَاب ٩ : فِي الْمُلَازَمَةِ ( قرض دار کے مقروض سے ) لیٹنے اور ساتھ رہنے سے متعلق سے، ٢٤٢٤: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۲۴۲۴: سجی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ جَعْفَرِ بْن رَبِيْعَةَ - نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا: ) جعفر بن ربیعہ سے وَقَالَ غَيْرُهُ: حَدَّثَنِي اللَّيْتُ قَالَ : روایت ہے اور نیکی کے سوا اور راویوں نے بھی کہا کہ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبيْعَةَ - عَنْ لیث نے مجھے بتایا۔وہ کہتے تھے۔جعفر بن ربیعہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے عبدالرحمن سے بن ہرمز - عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عبدالرحمن نے عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری كَعْبِ بْنِ مَالِكَ الْأَنْصَارِي عَنْ سے، انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن ابی حد رد اسلمی كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبِي حَدْرَدٍ کے ذمہ ان کا کچھ قرضہ تھا۔وہ عبداللہ سے ملے اور الْأَسْلَمِي دَيْنٌ فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا ان سے چمٹ گئے اور آپس میں باتیں کرنے لگے، حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَمَرَّ بِهِمَا یہاں تک کہ اُن کی آوازیں بلند ہوئیں۔اتنے میں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا في صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے۔آپ كَعْبُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: نے فرمایا: کعب! آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔جس النِّصْفَ - فَأَخَذَ نِصْفَ مَا عَلَيْهِ سے معلوم ہوتا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ آدھا چھوڑ اخبار مكة، ذكر رباع بن جمح بن عمرو، جزء ۳ صفحه ۳۴۱ ، ۳۴۲) عمدۃ القاری کے مطابق عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُو“ کے الفاظ ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۲۶۳ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔