صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 408
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۰۸ ۴۴ - كتاب الخصومات الله الحالي ٤٤- كِتَابُ الْخُصُومَاتِ 0000000000 اس کتاب کا نام كِتَابٌ فِي الْخُصُومَاتِ ہے یعنی یہ احکام جھگڑوں اور نالشوں سے متعلق ہیں اور ان میں ایسے مسائل کا بیان ہے جن کا تعلق خصومات کی نوعیت اور طریق تصفیہ وغیرہ سے ہے۔ خصم کے معنی جھگڑا کیا۔ اسی سے اسم مصدر خُصُومَةً ہے یعنی جھگڑا ۔ خَصَم سے باب مفاعله خَاصَمَهُ ، خِصَامًا آئے گا یعنی اُس سے جھگڑا کیا ، اور خَصم کے معنی ہیں: جھگڑا کرنے والا ۔ یہ لفظ مفرد، تثنیہ، جمع ، مذکر و مؤنث سب صیغوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ خَصِيمٌ کے معنے ہیں جھگڑالو، اور اس کی جمع خُصَماء ہے۔ (لسان العرب - خصم ) (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۲۴۹) قرآن مجید میں ہے: اَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ (الزخرف:۱۹) کیا وہ جوزیورات میں پلتی ہے اور جھگڑے میں اپنا مافی الضمیر ٹھیک طرح ادا نہیں کرتی ( وہ اللہ کے حصے میں آئی ہے اور مرد انسان کے حصے میں ۔ ) اس آیت میں ان مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ تعالی کے لئے بیٹیاں تجویز کر کے اُن کی پوجا پاٹ کرتے تھے، فرماتا ہے: کیا تم اپنے لئے بیٹے تجویز کرتے ہو اور خالق کے لئے بیٹیاں؟ بَاب ۱ : مَا يُذْكَرُ فِي الْإِشْخَاصِ وَالْخُصُوْمَةِ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُوْدِ مسلم اور یہودی کے درمیان جھگڑے اور کسی کو تصفیہ کی غرض سے حاکم کے پاس لے جانے کے بارے میں ( جو روایتیں بیان کی جاتی ہیں ) اُن کا بیان ٢٤١٠ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۲۴۱۰ ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ قَالَ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ہمیں بتایا، کہا: عبدالملک بن میسرہ نے مجھے بتایا۔ أَخْبَرَنِي قَالَ : سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ انہوں نے کہا کہ میں نے نزال بن سبرہ سے سنا۔ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَجُلًا ( وہ کہتے تھے :) میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ) قَرَأَ آيَةً سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى الله سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو سنا۔ اُس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ نے ایک آیت اس طرح پڑھی کہ میں نے وہ آیت