صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 16 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 16

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۶ ۳۴- كتاب البيوع صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ فِي ما ( عبد اللہ بن زید مازنی) سے روایت کی۔انہوں الصَّلَاةِ شَيْئًا أَيَقْطَعُ الصَّلَاةَ قَالَ: لَا نے کہا: ایک شخص کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا وَقَالَ خدمت میں شکوہ کیا گیا کہ اسے نماز میں ( وضوٹو ٹنے کے متعلق کچھ وسو سے اُٹھتے ہیں۔اس صورت میں کیا وہ نماز توڑ دے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے۔اور ( محمد ) ابن ابی حفصہ نے زہری سے نقل کیا کہ وضو کی اس وقت ضرورت ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ: لَا وُضُوءَ إِلَّا فِيْمَا وَجَدْتَ الرِّيْحَ أَوْ سَمِعْتَ الصَّوْتَ۔اطرافه: ۱۳۷، ۱۷۷۔ہے جبکہ تو بو پائے یا آواز سنے۔٢٠٥٧ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ :۲۰۵۷ احمد بن مقدام مجلی نے ہم سے بیان کیا کہ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ محمد بن عبدالرحمن طفاوی نے ہم سے بیان کیا، کہا: عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ ابْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اللهُ عَنْهَا أَنْ قَوْمًا قَالُوا : يَا رَسُولَ الله سے روایت کی کہ بعض لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! إِنْ قَوْمًا يَأْتُونَنَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِي ہمارے پاس لوگ گوشت لے کر آتے ہیں۔ہم نہیں أَذَكَرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا فَقَالَ جانتے کہ انہوں نے ( ذبح کرتے وقت ) اس پر اللہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: کا نام لیا ہے یا نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس پر بسم اللہ پڑھ لیا کرو اور اسے کھا لو۔سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهِ وَكُلُوْهُ۔اطرافه: ٥٥٠٧، ٧٣٩٨- تشریح: مَا يُتَنَزَّهُ مِنَ الشُّبُهَاتِ: امام موصوف نے روایات کے انتخاب میں جو مثالیں پیش کی ہیں، حرمت اور اباحت سے اُن کا تعلق واضح ہے۔اس غرض سے تین باب یکے بعد دیگرے قائم کئے ہیں۔پہلے باب ( نمبر ۳) میں حرمت سے متعلقہ تین مثالیں بیان کی ہیں۔ایک مثال رشتے کی حرمت بوجہ رضاعت۔دوسری مثال الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ - تیری مثال شکاری کتے کا مارا ہوا جانور اور چوٹ سے مرا ہوا۔آخر کی مثال سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشتبہ ہونے کی حالت میں حرمت کے صریح قرآنی حکم پر عمل کرنے کی ہدایت فرمائی۔