صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 398
صحيح البخاری جلدم ۳۹۸ ۴۳- كتاب الاستقراض بَاب ١٦ : مَنْ بَاعَ مَالَ الْمُفْلِس أَوِ الْمُعْدِم فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْغُرَة أَوْ أَعْطَاهُ حَتَّى يُنْفِقَ عَلَى نَفْسِهِ جود یوا لئے یا تہی دست کی ملکیت کو بیچ کر اس کے قرض خواہوں میں تقسیم کر دے یا اُسی کو دیدے کہ وہ اپنی ذات پر خرچ کرے ٢٤٠٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۲۴۰۳ مسدد نے ہمیں بتایا کہ یزید بن زریع نے حَدَّثَنَا حُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ ہمیں خبر دی کہ حسین معلم نے ہمیں بتایا کہ عطاء بن يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرٍ الى رباح نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک شخص نے یہ وصیت قَالَ : أَعْتَقَ رَجُلٌ غُلَامًا لَّهُ عَنْ دُبُرِ کی کہ اُس کے مرنے کے بعد اس کا غلام آزاد ہوگا۔فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ في صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے کون اس يَشْتَرِيْهِ مِنِّي فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ (غلام) کو خریدے گا تو اُس کو عظیم بن عبد اللہ نے لے لیا۔آنحضرت نے غلام کی قیمت لی اور (آزادی کی وصیت کرنے والے کو) دے دی (تا کہ وہ اپنے فَأَخَذَ ثَمَنَهُ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ۔قرض خواہوں کو دے اور اپنے او پر خرچ کرے۔) اطرافه ۲۱٤١، ۲۲۳۰، ۲۲۳۱، ٢٤١٥، ٢٥٣٤، ٦٧١٦، ٦٩٤٧، ٠٧١٨٦ فریح: مَنْ أَخَّرَ الْغَرِيمَ إِلَى الْعَدِ اَوْ نَحْوِهِ وَلَمْ يَرَ ذَلِكَ مَطْلًا: ان دو ابواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے کہ آپ نے خود اپنی زیر نگرانی قرض خواہوں کو اُن کا قرضہ ادا کرایا۔فیصلے کی غرض سے التواء کی صورت قابل اعتراض نہیں۔وَقَالَ جَابِرٌ اشْتَدَّ الغُرَمَاءُ : باب ۱۵ کی روایت متعد د سندوں سے پہلے گزر چکی ہے اور یہاں واؤ عاطفہ کے ساتھ بیان کر کے اس باب کے مضمون کا ربط سابقہ باب کے مضمون سے کیا ہے۔اس روایت کے لئے کتاب البيوع باب ۵۱ روایت نمبر ۲۱۲۷، کتاب الاستقراض روایات نمبر ۲۳۹۶،۲۳۹۵ دیکھئے۔ان دونوں کا ماحصل یہ ہے کہ قاضی اپنی نگرانی میں قرض خواہوں کو بحصہ رسد کی دلائے۔