صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 397
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۹۷ ۴۳- كتاب الاستقراض فَهُوَ لَهُ وَمَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ لَهُ (عمدۃ القاری جزء ۱۲۰ صفحه ۲۳۷) یعنی قرض خواہوں میں سے جس نے اعلان افلاس سے قبل اپنا حق لے لیا، وہ اُس کا ہو چکا اور اگر کسی قرض خواہ کا کوئی سامان مقروض کے پاس بعینہ پایا جائے تو وہ سامان والے کا ہے اور اسے دیا جائے گا، بشرطیکہ اُس سامان کی قیمت سے کوئی ادائیگی نہ کی جاچکی ہو۔ قیمت میں سے ایک حصہ ادا ہونے پر خرید کردہ سامان کی واپسی کا حق قائم نہیں رہتا بلکہ اسے فروخت کیا جائے گا اور قرض خواہ کو باقی ماندہ حق ملے گا۔ اور اگر ایسے سامان کی صورت و شکل میں تبدیلی ہو چکی ہو۔ مثلاً سونا زیور میں تبدیل ہو، گھوڑا بیچ کر زمین خرید لی ہو تو ایسی صورت میں زیور اور زمین فروخت کر کے رقم قرض خواہوں میں بحصہ رسدی تقسیم ہوگی ۔ اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد محولہ بالا اصولی ہے اور فروعات و جزئیات میں فیصلہ قاضی پر ہے۔ جیسا کہ محولہ بالافتوے اور فیصلے سے ظاہر ہے۔ امام شافعی کا فتوی جمہور کے خلاف ہے کہ سامان کی شکل تبدیل ہو یا نہ ہو۔ یا اس کی قیمت سے کچھ وصول ہو یا نہ ہو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ جس کا سامان ہو، اسے بہر حال دلایا جائے سوائے اس کے کہ سامان والا اختیار دے دے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۲۳۸) ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۸۰ تا ۸۲ ) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اصولی فیصلہ عنوان باب میں نمایاں کر کے دونوں قسم کے فتوے درج کر دئے ہیں۔ بَاب ١٥ : مَنْ أَخَرَ الْغَرِيمَ إِلَى الْغَدِ أَوْ نَحْوِهِ وَلَمْ يَرَ ذَلِكَ مَطْلًا اگر کوئی شخص (حاکم سے) قرض خواہ کو کل پرسوں تک ادا کرنے کا وعدہ کرے اور وہ اُسے ٹال مٹول نہ سمجھے وَقَالَ جَابِرٌ : اشْتَدَّ الْغُرَمَاءُ فِي اور حضرت جابرؓ نے کہا: میرے باپ کے قرض حُقُوقِهِمْ فِي دَيْنِ أَبِي فَسَأَلَهُمُ النَّبِيُّ خواہوں نے اپنے اپنے حق کے متعلق قرضہ کا سخت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلُوا تَمْر تقاضا کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ میرے حَائِطِيْ فَأَبَوْا فَلَمْ يُعْطِهِمِ الْحَائِطَ وَلَمْ باغ کے میوے کے کو ( قرض میں ) لے لیں تو انہوں يَكْسِرْهُ لَهُمْ وَقَالَ: سَأَغْدُوْ عَلَيْكُمْ نے انکار کیا۔ اس لئے آپ نے نہ ان کو باغ دیا، نہ اُن کے لئے پھل تڑوایا، اور فرمایا: میں کل صبح غَدًا فَغَدَا عَلَيْنَا حِيْنَ أَصْبَحَ فَدَعَا فِي تمہارے پاس آؤں گا۔ جب صبح ہوئی تو آپ ثَمَرِهَا بِالْبَرَكَةِ فَقَضَيْتُهُمْ۔ ہمارے پاس آئے اور آپ نے اس باغ کے پھلوں میں برکت کی دعا کی اور میں نے اُن لوگوں کا قرض ادا کر دیا۔ (سنن الدار قطنی، كتاب البيوع، روایت نمبر ۲۸۹۳) فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ ”قمر“ کا لفظ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ۸۲ )