صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 399 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 399

صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۹۹ ۴۳- كتاب الاستقراض بَاب ۱۷ : إِذَا أَقْرَضَهُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى أَوْ أَجَلَهُ فِي الْبَيْعِ اگر کوئی شخص کسی کو معین میعاد کے لئے قرضہ دے یا بیچ میں قیمت ادا کرنے کے لئے میعاد مقرر کرے وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي الْقَرْضِ إِلَى حضرت ابن عمرؓ نے کہا: مقررہ میعاد پر قرض دینے أَجَلٍ : لَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ أُعْطِيَ أَفْضَلَ مِنْ میں کوئی حرج نہیں؛ خواہ اس کو اس کے اپنے درہموں دَرَاهِمِهِ مَا لَمْ يَشْتَرِطْ ۔ سے زیادہ درہم ملیں ، بحالیکہ اس نے شرط نہ کی ہو۔ وَقَالَ عَطَاء وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ : هُوَ إِلَى اور عطاء اور عمر و بن دینار نے کہا: ( قرض دینے والا ) أَجَلِهِ فِي الْقَرْضِ۔ : ٢٤٠٤ قرض میں اپنی مقررہ معیاد کا پابند رہے گا۔ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ۲۴۰۴ اور لیٹ (بن سعد ) نے کہا: مجھے جعفر بن جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ربیعہ نے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن ہرمز سے، هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عبد الرحمن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ روایت روايت کی کہ آپ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ فَدَفَعَهَا ذکر کیا جس نے کسی دوسرے بنی اسرائیلی سے اپنے إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ لئے قرض لیا اور اُس کو مقررہ معیاد پر ادا کر دیا، اور (آخر تک) واقعہ بیان کیا۔ إطرافه: ١٤٩٨، ۲۰۶۳، ۲۲۹۱، ٢٤۳۰، ٢٧٣٤، ٦٢٦١۔ تشريح : إِذَا أَقْرَضَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّی : عنوان باب میں تین حوالے بیان کئے گئے ہیں اور اس کے تحت کوئی مستقل روایت درج نہیں کی گئی۔ حضرت اب حضرت ابن عمرؓ کے فتوی سے ظاہر ہے کہ اگر چہ قرض میں۔ معیاد کا تعین ضروری نہیں لیکن اگر مقرر ہو تو کوئی حرج نہیں ۔ یہ حوالہ ابن ابی شیبہ نے بسند وکیع نقل کیا ہے کہ انہوں نے عطاء بن یعقوب سے ایک ہزار درہم قرض لئے اور بوقت ادائیگی کچھ زائد درہم دیئے اور کہا: مَا كَانَ فِيهَا مِنْ فَضْلٍ فَهُوَ نَائِلٌ مني (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب البيوع، باب الرجل يقرض الرجل الدراهم) یعنی جو زائد درہم ہیں وہ میری طرف سے عطیہ ہیں۔ یہ صورت جائز ہے بشرطیکہ قرض دیتے وقت اس کی قید نہ لگائی گئی ہو۔ دوسرا حوالہ عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار کا ہے جو مسند عبد الرزاق میں منقول ہے کہ وہ قرض میں میعاد کے قائل تھے اور یہ امر امام مالک اور مصنف عبد الرزاق، كتاب البيوع، باب نمبر ا روایت نمبر ۱۴۰۵۷) ☆