صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 386
صحيح البخاری جلدم ۳۸۶ ۴۳ - كتاب الاستقراض ٢٣٩٤: حَدَّثَنَا خَلادٌ حَدَّثَنَا :۲۳۹۴ خلاد (بن سحي ) نے ہم سے بیان کیا کہ مِسْعَرٌ حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ عَنْ مِعر نے ہمیں بتایا۔محارب بن دثار نے حضرت جابر جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے ہمیں الله قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بتایا۔انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے پاس آیا۔اُس وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ مِسْعَرٌ : أَرَاهُ وقت آپ مسجد میں تھے۔مسعر نے کہا: میں سمجھتا قَالَ ضُحَى فَقَالَ : صَلّ رَكْعَتَيْن ہوں ( محارب نے) کہا: چاشت کا وقت تھا۔آپ نے وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَصَانِي وَزَادَنِيَّ فرمایا: دورکعتیں نماز پڑھ لو اور میرا آپ کے ذمے کچھ قرض تھا اور آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ دیا۔اطرافه: ٤٤٣، ۱۸۰۱، ۲۰۹۷، ۲۳۰۹، ۲۳۸۵، ۲۰۰۶، ٢٤۷۰، ٢٦٠٣، ٢٦٠٤، فریح ،۵۰۷۹ ،٤٠٥۲ ،۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲۹٢٧١٨، ٢٨٦١، ٦٧ ٥۰۸۰ ٥٢٤٣، ٥٢٤٤، ٥٢٤٥، ٥٢٤٦ ،٥٢٤٧ ٥٣٦٧ ٦٣٨٧۔حُسْنُ الْقَضَاءِ: اس تعلق میں کتاب البیوع تشریح باب ۱۶، ۱۷، ۱۸ روایات نمبر ۲۰۷۶، ۲۰۷۸،۲۰۷۷ دیکھئے ، اور کتاب الاستقراض باب نمبرم کی تشریح بھی دیکھئے، جہاں تقاضا قرض کے تعلق میں پسندیدہ اخلاق سے متصف ہونے کا ذکر ہے۔سابقہ باب ۴ اور یہ تینوں باب ( نمبر ۶،۵، ۷ ) عین مناسبت سے ترتیب دیئے گئے ہیں اور ان میں قرض کی ادائیگی سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے۔بغیر شرط اگر مقروض قرض خواہ کو زیادہ دے تو یہ سو دنہیں ہے بلکہ حسن سلوک پر شکریہ کا اظہار ہے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت کے لئے کتاب البیوع باب ۳۴ روایت نمبر ۲۰۹۷ اور کتاب الشروط روایت نمبر ۲۷۱۸ بھی دیکھئے۔بَاب ٨ : إِذَا قَضَى دُوْنَ حَقِهِ أَوْ حَلَّلَهُ فَهُوَ جَائِزٌ مقروض قرض خواہ کی رضا مندی سے اس قرض سے کم ادا کرے، جس کا ادا کرنا اُس پر واجب ہے یا قرض خواہ اُس کو معاف کر دے تو یہ جائز ہوگا ٢٣٩٥: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا :۲۳۹۵ عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ (بن) مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ یونس نے ہمیں بتایا۔حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ جَابِرَ انہوں نے زہری سے روایت کی۔انہوں نے کہا: مجھے