صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 383
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۸۳ ۴۳ - كتاب الاستقراض بَاب ٤ : اسْتِقْرَاضُ الْإِبِلِ اُونٹ قرض پر خریدنا ۲۳۹۰ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۲۳۹۰ ابوالولید نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلِ قَالَ : بیان کیا کہ سلمہ بن کہیل نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بِمِنّى يُحَدِّثُ عَنْ کہا: میں نے اپنے گھر میں ابوسلمہ کو حضرت ابو ہریرہ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بیان کرتے ہوئے سنا کہ تَقَاضَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقاضا کیا وَسَلَّمَ فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ اور آپ سے سخت کلامی کی۔ اس پر آپ کے صحابہ فَقَالَ: دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ اُسے مارنے کو لپکے۔ آپ نے فرمایا: جانے دو کیونکہ مَقَالًا وَاشْتَرُوا لَهُ بَعِيْرًا فَأَعْطُوْهُ إِيَّاهُ حق دار کہتا ہی ہے اور اس کے لئے ایک اونٹ خریدو وَقَالُوا: لَا نَجِدُ إِلَّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِهِ اور اسے دے دو۔ تو انہوں نے کہا: اس کے اُونٹ کی قَالَ: اِشْتَرُوْهُ فَأَعْطُوْهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ عمر سے بڑھ کر ہمیں ملتا ہے۔ آپ نے فرمایا: وہی خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً۔ خرید لو اور وہی اس کو دے دو کیونکہ تم میں اچھے وہی لوگ ہیں جو تم میں سے قرض کو اچھی طرح ادا کریں۔ اطرافه: ۲۳۰۵، ۲۳۰۶، ۲۳۹۲، ۲۳۹۳، ٢۴۰۱، ٢٦٠٦، ٢٦٠٩۔ تشريح : استقراض الإبل : عنوان باب یہ ہے۔ اُن کا قرض پر خریدنا با ب مصدر یہ ہے۔ اُونٹ کا قرض پر خرید نا مقصود باب نہیں بلکہ اصل مقصود یہ دکھانا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اونٹ قرض پر لیا اُس قرض کی ادائیگی با حسن صورت کی گئی۔ اِس باب میں ادائیگی سے منہ ادائیگی سے متعلق آداب مذکور ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اونٹ اور دوسری دفعہ غلہ لیا تھا جس کا ذکر زیر باب میں گزر چکا ہے۔ مگر یہاں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ مثالی ہے اور قابل رشک و تقلید نمونہ پیش کرتا ہے اور بتایا ہے کہ ادائیگی عمدہ صورت میں ہونی چاہیے اور ق ئیگی عمدہ صورت میں ہونی چاہیے اور قرض خواہ کی طرف سے اگر سختی ہو تو اس پر صبر تحمل سے کام لیا جائے اور اس کا حق مد نظر رہے۔ آپ نے اظہار نا راضگی کی جگہ یہودی قرض خواہ کو بہتر اونٹ دلوایا اور صحابہ کو نصیحت فرمائی کہ اُس کی سختی سے برہم نہ ہوں کہ وہ قرض خواہ ہے اور اسے کہنے کا حق ہے۔ عمدة القاری میں ”بھنی“ کے بجائے ”بِبَيْتِنَا“ کا لفظ ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۲۳۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔