صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 14
صحيح البخاری جلدم ۱۴ ۳۴- كتاب البيوع السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِي عَنْ عَدِي بْنِ انہوں نے شعبی سے شعبی نے حضرت عدی بن حاتم حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے نوک تیر کی نسبت الْمِعْرَاضِ فَقَالَ: إِذَا أَصَابَ بِحَدِهِ پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جب تیرا اپنی دھار سے شکار فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَلَا کو لگے تو کھالو اور جب تیر کی جھپٹ سے مر جائے تو نہ تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيْدٌ۔قُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللهِ کھاؤ کیونکہ اس صورت میں وہ چوٹ سے مرا ہوا شکار ہوگا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں اپنے کتے کو چھوڑتا أُرْسِلُ كَلْبِي وَأُسَمِّي فَأَجِدُ مَعَهُ عَلَى ہوں اور ( چھوڑنے سے پہلے ) بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں الصَّيْدِ كَلْبًا آخَرَ لَمْ أُسَمَ عَلَيْهِ وَلَا اور جب شکار لینے جاتا ہوں تو اپنے کتے کے ساتھ اور أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ قَالَ : لَا تَأْكُلْ إِنَّمَا کتا بھی پاتا ہوں جس پر میں نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہوتی سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى اور مجھے یہ پتہ نہیں لگتا کہ کس کتے نے شکار کیا۔آپ نے فرمایا: نہ کھاؤ۔کیونکہ تم نے تو اپنا کتا چھوڑنے پر ہی الْآخَرِ۔بسم اللہ پڑھی تھی اور دوسرے پر بسم اللہ نہیں پڑھی۔اطرافه ١٧٥، ٥٤٧٥، ٥٤٧٦، ٥٤٧٧، ٥٤٨٣، ٥٤٨٤، ٥٤٨٥، ٥٤٨٦، ٠٥٤٨٧ ٧٣٩٧۔تشریح: تَفْسِيرُ الْمُشَبَّهَاتِ : عنوانِ باب میں حسان بن ابی سنان بصری تابعی کے حوالہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوسرا پر حکمت بلیغ قول بھی نقل کیا گیا ہے۔اُن کی یہ روایت امام احمد بن حنبل نے موصول انقل کی ہے۔بخاری سے ان کا صرف یہی حوالہ مروی ہے۔حسان بن ابی سنان نے ایک موقع پر یونس بن عبیڈ سے بوقت ملاقات مذکورہ بالا ارشاد نبوی کا ذکر کر کے کہا کہ میں نے اس سے بڑھ کر مفید علاج نفس کی بیماریوں کے لئے نہیں پایا۔تَرَكْتُ مَا يُرِيْنِى إِلَى مَا لَا يُرِيْبُنِى فَاسْتَرَحْتُ۔(حلية الأولياء، ذكر حسان بن ابی سنان، جز ۳۶ صفحه ۱۱۶) جو بات مجھے کھٹکی کہ یہ نا مناسب ہے، اُسے چھوڑ دیا اور وہ بات اختیار کی جس کی نسبت میرے ضمیر نے فتویٰ دیا کہ وہ مناسب ہے تو میں آرام پا گیا۔ورع کے معنے ہیں شبہات سے بچنے کی کوشش کرنا۔(اقرب الموارد ورع) الْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ (مسلم، کتاب البر والصلة، باب تفسير البر والإثم) گناہ وہ ہے جو تیرے سینہ میں کھٹکے اور خلش پیدا کرے ضمیر انسانی ہزاروں پر دوں میں بھی خدا داد آواز کو کسی نہ کسی صورت میں انسان تک پہنچا دیتا ہے کہ فلاں بات نا جائز ہے، خواہ وہ حیلے بہانے سے ناجائز بات کے جواز کی صورتیں بنا بنا کر فطرت کی باطنی آواز بند رکھنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے۔وہ کبھی بند نہیں ہوسکتی۔قرآن مجید میں فطرت کی اسی آواز کے بارے میں فرمایا گیا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ