صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 378
صحيح البخاری جلدم ۳۷۸ ۴۳- كتاب الاستقراض بَاب ٢ : مَنْ أَحَدَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيْدُ أَدَاءَهَا أَوْ إِتْلَافَهَا جو شخص لوگوں کے مال ادا کرنے کے ارادے سے کے یا ادا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو ۲۳۸۷ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۲۳۸۷ عبد العزیز بن عبد اللہ اویسی نے ہم سے عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ ثَوْرِ بْن زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ ثور بن زید سے، ثور نے ابوالغیث سے، انہوں نے أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَخَذَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيْدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ فرمایا: جو شخص لوگوں کے مال اس نیت سے لے کہ ادا کروں گا تو اللہ تعالیٰ اُس کو ادا کرنے کی توفیق دے گا وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ۔اور جو اس نیت سے لے کہ اُن (اموال) کو برباد کروں گا تو اللہ اُسے بھی برباد کر دے گا۔تشریح : مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ اَدَآءَ هَا أَوْ إِخْلَافَهَا: تمام اعمال کی صحت اور عدم صحت کا دارومدار نیت پر ہے۔اس تعلق میں مفصل دیکھئے تشریح کتاب بدء الوحی بابا۔ادائیگی کی نیت سے قرض لینے کے بارے میں کئی روایتیں ابن ماجہ اور حاکم " سے مروی ہیں۔جن کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان نیک نیت ہو تو ) اللہ تعالیٰ اُس کے قرض کی ادائیگی کے لئے سہولتیں پیدا کر دیتا ہے۔اُن میں سے ایک روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔جس کے الفاظ یہ ہیں: مَا مِنْ عَبْدِ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِى إِدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ۔(المستدرك على الصحيحين، كتاب البيوع، باب ما من عبد كانت له نية في اداء دينه الا كان له من الله عون) جو بندہ بھی اپنا قرض ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرور اُس کی مدد ہو گی۔بَاب ٣ : أَدَاءُ الدُّيُونِ قرضوں کی ادائیگی (کے بارے میں ) وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ نیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم اَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا دیتا ہے کہ تم امانتیں اُن کے سپرد کرو جو اُن کے اہل ☆ (سنن ابن ماجه، كتاب الاحکام، باب من ادان دينا وهو ينوي قضاء ه)