صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 373
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۷۳ ۴۲ - كتاب المساقاة يَرْفَعَ وَكَذَلِكَ رَبُّ الْعَرِيَّةِ۔ اور ایسا ہی عریہ والا بھی۔ (یعنی وہ شخص جس کو باغ میں سے پھل استعمال کیلئے بطور ہدیہ یا صدقہ دیا گیا ہو۔ ) ۲۳۷۹ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۲۳۷۹: عبداللہ بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ لیث نے ہم حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سالم عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيْهِ بن عبد اللہ سے سا عبد اللہ سے، سالم نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ ) صلى الله عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول الله رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ مَا سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: جو شخص پیوند لگائے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ مَنِ جانے کے بعد کھجور کے درخت خریدے تو یاد رکھے کہ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا ان کا پھل بیچنے والے کے لئے ہوگا؛ سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط کرلے اور جو شخص کوئی غلام خریدے لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنِ اور اس (غلام) کا مال ہو تو اس کا مال بھی اس شخص ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي کے لئے ہوگا جس نے اس کو فروخت کیا۔ مگر یہ کہ بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَعَنْ خریدار شرط کرلے۔ اور یہ حدیث مالک سے بھی مَّالِكِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ مروی ہے۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے حضرت عمر سے۔ ان عُمَرَ فِي الْعَبْدِ۔ کی یہ حدیث صرف غلام سے متعلق ہی ہے۔ اطرافه: ۲۲۰۳، ٢٢٠٤، ٢٢٠٦، ٢٧١٦۔ ۲۳۸۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۲۳۸۰ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کی بن سعید (انصاری) سے، نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ کی نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر سے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ ابن عمر نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے روایت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الْعَرَايَا کی۔ انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ سلم نے اجازت دی کہ عرایا کی خام کھجوروں کا اندازہ کر کے ان کے بدلے بِخَرْصِهَا ثَمَرًا ۔ اطرافه: ۲۱۷۳، ۲۱۸۴، ۲۱۸۸، ۲۱۹۲۔ میں اتنی ہی پختہ اور عمدہ کھجوریں دے دی جائیں ۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ ”تمرا“ کا لفظ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۶۲ )