صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 371
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۷۱ ۴۲ - كتاب المساقاة فَقَالَ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً کہ تم پر دوسرے مقدم کئے جائیں گے۔ اس وقت تم فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي۔ اطرافه: ٢٣٧٦، 3163، 3794۔ صبر کرنا؛ یہاں تک کہ مجھ سے ملو۔ تشریح : كِتَابَةُ القطائع: روایت زیر باب مقطوع ہے۔ اس لئے عنوان ہی میں عطف واؤ کے ساتھ درج کی گئی ہے اور یہ باب سا اور یہ باب سابقہ باب ہی کے مضمون سے متعلق ہے۔ اس میں جاگیرداری کا پٹہ لکھنے کا ذکر نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پٹہ لکھنے میں تردد اس لئے کیا کہ آپ وہاں۔ اسے پیداوار بصورت جزیہ وصول کرنا جزیہ وصول کرنا چاہتے تھے اور اس سے قبل مہاجرین کو بنو نضیر کی جائیدادیں دے چکے تھے۔ بحرین والوں نے صلح پر ہتھیار ڈال دیئے اور جزیہ دینا قبول کر لیا تھا اور وہ آباد علاقہ تھا اور افتادہ اراضیات وہاں کم تھیں۔ ان وجوہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پٹہ نہیں لکھا۔ اللہ تعالیٰ انصار کے بارے میں فرماتا ہے : يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر : ۱۰) جو لوگ ہجرت کر کے انصار کے پاس آئے ہیں، ان سے وہ محبت رکھتے ہیں اور اپنے دلوں میں اس ( مال ) کی کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے جو ان (مہاجرین) کو دیا گیا اور وہ ان کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ گو وہ خود ضرورت مند ہوں ۔ مذکورہ بالا واقعہ سے تین باتوں کی تصدیق ہوتی ہے:۔ اول: انصار نے بتقاضائے اخوت و محبت بحرین کی پیش کش میں مہاجرین کو بھی شریک کرنا چاہا اور یہ خیال نہ کیا کہ بنو نضیر کی جلا وطنی پر ان کی جائیدادیں مہاجرین کو مل چکی ہیں۔ حالانکہ یہودیوں کی متروکہ جائیدادوں کے انصار اول درجے پر مستحق تھے۔ کیونکہ وہ مدینہ کے اصل باشندے تھے۔ دوم: یہودی سرمایه دار سودی کاروبار وغیرہ سے آہستہ آہستہ ان کی جائیدادوں کے مالک ہو گئے تھے۔ جیسا کہ انگریزی عمل ریزی عمل داری میں ہندو ساہوکار پنجاب کی ان زمینوں پر قابض ہو۔ کار پنجاب کی ان زمینوں پر قابض ہو گئے تھے جن کے مالک مسلمان تھے اور آخرکاران ساہوکاروں سے نجات دلانے کے لئے زمینداری قانون بنانا پڑا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مدینہ کے عربوں کا بھی یہی حال تھا۔ مہاجرین کو بنو نضیر کی جو جائیدادیں دی گئیں، ان سے انصار کو کسی قسم کا احساس پیدا نہیں ہوا کہ انہیں دی گئیں اور ہمیں نہیں دی گئیں۔ سوم محولہ بالا عطیہ میں انصار نے مہاجرین کو مقدم کرنا چاہا۔ یہ تینوں باتیں اس واقعہ سے واضح طور پر ثابت ہوتی ہیں کہ قرآن مجید کا بیان کردہ وصف انصار پر پورے طور سے صادق آتا ہے۔