صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 360 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 360

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۶۰ ۴۲- كتاب المساقاة ٢٣٦٥ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي ۲۳۶۵ : اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مَالِكٌ عَنْ نَّافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ کہا : مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُذِّبَتِ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب ہوا؛ جسے اس نے بند کر رکھا تھا۔ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرگئی تو وہ اُس بلی کی وجہ سے آگ میں داخل ہوئی۔ (حضرت عبداللہ بن عمر ) جُوْعًا فَدَخَلَتْ فِيْهَا النَّارَ قَالَ فَقَالَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ لَا أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا کہتے تھے: آپ نے یہ بھی فرمایا: ( اس سے کہا گیا ) تو وَلَا سَقَيْتِهَا حِيْنَ حَبَسْتِهَا وَلَا أَنْتِ نے اسے قید رکھا اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے نہ تو نے أَرْسَلْتِهَا فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ۔ اسے کھلایا اور نہ پلایا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ زمین اطرافه: ۳۳۱۸، ٣٤٨٢۔ کے کیڑے مکوڑے کھاتی۔ تشریح : فَضْلُ سَقْيِ الْمَاءِ پانی پلانے کی فضیلات فضیلات سے یہاں مراد ثواب ہے۔ باب نمبرہ کے ہی تعلق میں یہ ہا میں یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ وہاں پانی روکنے کی سزا کا ذکر ہے اور یہاں حاجت مند کو پانی پلانے کے عمل کی فضیلت کا بلحاظ ثواب کے۔ مسائل آب رسانی کی بحث میں یہ باب اس لحاظ کی بحث میں یہ باب اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ یہ صرف سابقہ مضمون کے لئے بطور فصل ہی نہیں۔ جیسا کہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے صراحت کی ہے بلکہ یہ باب اصل مضمون سے ایک لطیف مناسبت بھی رکھتا ہے کہ نباتات کی حیات و بقا اور اُن کی حفاظت کا مسئلہ کتے ، بلی اور ہر ذی حیات کی بقاء کے ساتھ ایک ہی زمرہ میں ہے۔ فی كُلِّ كَبِدِ رَطْبَةٍ أَجْرٌ كَبِد کے معنے ہیں جگر اور رطبة ترو تازہ یعنی زندگی والا۔ اس فقرہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر جاندار کے ساتھ نیک سلوک کرنے میں اجر ہے۔ فقہاء اس بحث میں تھے کہ پانی جو کسی کی ملکیت میں ہو؛ اس کا پہلا حق دار مالک ہے۔ (دیکھئے باب ۵) مگر اس باب کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ہر شئے جس کی زندگی کا دارومدار پانی پر ہو، وہ عند الضرورت پانی کی پہلی مستحق ہے اور اس حق کے دینے یا نہ دینے کی ذمہ داری ہر اس انسان پر عائد ہوتی ہے جس کے قبضہ میں پانی ہو، یا وہ اس کے بہم پہنچانے پر قدرت رکھتا ہو۔ چنانچہ اس کے بعد کا باب اسی فقہی تعلق میں قائم کیا گیا ہے۔