صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 349 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 349

صحيح البخاری جلدم ۳۴۹ ۴۲ - كتاب المساقاة ٢٣٥٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۳۵۳: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ جو پانی بیچ رہے، اس کو اس لئے نہ روکا جائے کہ الْكَلَةُ۔اطرافه: ٢٣٥٤، ٦٩٦٢۔عن ابن گھاس نہ اُگے۔٢٣٥٤: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا :۲۳۵۴ جی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ شہاب سے ، ابن شہاب نے (سعید) بن مسیب اور أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا تَمْنَعُوْا فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعُوا بِهِ بچے ہوئے پانی کو اس لئے نہ روکو کہ تا ضرورت سے فَضْلَ الْكَلَا۔اطرافه: ٢٣٥٣، ٦٩٦٢۔تشریح زیادہ گھاس نہ اُگنے پائے۔إِنَّ صَاحِبَ الْمَاءِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ حَتَّى يَرُوی: پانی کی ملکیت متحقق ہونے پر پہلی ہدایت یہ ہے کہ استعمال کا اول حق مالک کا ہے اور دوسری ہدایت یہ ہے کہ مالک اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد پانی دوسروں کو استعمال کرنے دے۔امام شافعی نے اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو کنوؤں سے مخصوص کیا ہے؛ جو نجی ضرورت کے لئے کھدوائے جاتے ہیں۔لیکن اگر کنواں بنجر وغیرہ زمین میں رفاہ عامہ کی خاطر کھدوایا گیا ہو تو بطور وقف متصور ہوگا۔ایسے کنوئیں میں تقدیم و تاخیر کا سوال نہیں پیدا ہوسکتا۔سب اس کے پانی کو استعمال کر سکتے ہیں۔( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۱) لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلةُ : الكَلا سے مراد نباتات ہے؛ جس سے مویشی وغیرہ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔شارحین نے لا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الكَلدُ کی تشریح یہ بھی کی ہے کہ مثلاً کسی کا کنواں ایک ایسی