صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 350
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۵۰ ۴۲ - كتاب المساقاة جگہ پر ہو جس کے قریبی علاقہ میں گھاس ہو۔ جس میں سب لوگوں کو جانور چرانے کا حق ہو۔ مگر کنوئیں والا لوگوں کے جانوروں کو پانی پینے نہ دے۔ اس غرض سے کہ جب پانی جانوروں کو پینے کے لئے نہیں ملے گا تو لوگ جانور چرانے کے لئے نہیں لائیں گے اور گھاس صرف کنوئیں والے کے جانوروں کے لئے محفوظ رہے گی اور وہی اس سے استفادہ کر سکے گا۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحه (۴) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ جمہور نے مندرجہ بالا حدیث سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جو رفاہ عامہ کی غرض کے لئے ہو، بیچنا مکروہ ہے اور مذکورہ بالا ممانعت بطور تنزیہ ہے نہ کہ تحریم۔ عنوان باب اور احادیث زیر باب اسی مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔ بَاب : مَنْ حَفَرَ بِثْرًا فِي مِلْكِهِ لَمْ يَضْمَنْ یہ باب اس بارے میں ہے کہ ) جو شخص اپنی ملکیت میں کنواں کھودے ( اور اس میں کوئی گر کر مر جائے ) تو مالک پر تاوان نہ پڑے گا ٢٣٥٥: حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ۲۳۵۵ محمود ( بن غیلان ) نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عبید اللہ بن موسیٰ ) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابو حصین سے، ابو حصین نے ابو صالح أَبِي حَصِيْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ روایت کی ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: کان سے جو نقصان ہو، اس کا تاوان نہ الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءُ ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی کنوئیں میں گر کر مر جائے تو اس کا بھی کوئی تاوان نہ ڈالا جائے گا۔ اسی طرح اگر جُبَارٌ وَفِي الرِّكَانِ الْخُمْسُ۔ جانور کے چھوٹ جانے سے کوئی انسان اس کی زد میں آ کر مر جائے تو اس کا بھی کوئی تاوان نہ ہوگا اور جو دفن شدہ مال ملے، اس کا پانچواں حصہ دینا ہوگا۔ اطرافه ١٤٩٩، 691٢، 6913۔ تشريح : مَنْ حَفَرَ بِرًا فِي مِلْكِهِ لَمْ يَضْمَنُ : ى مِلْكِهِ لَمْ يَضْمَنُ : زیر باب جو حدیث منقول ہے، وہ بھی پانی کی ملکیت پر دلالت کرتی ہے۔ اگر کنواں کسی واحد شخص کی ملکیت قرار نہیں دیا جا سکتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جاسکتا نے یہ کیوں فرمایا کہ اس میں گر کر مرنے کا تاوان کنوئیں کے مالک پر نہیں ڈالا جائے گا۔ بعض شارحین نے سوال اُٹھایا ہے کہ مندرجہ بالا حدیث کے الفاظ میں ملکیت کا ذکر نہیں ؛ عنوان باب کو فِی مِلْكِهِ سے کیوں مقید کیا گیا ہے؟ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فتوے سے ملکیت کا استنباط