صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 341
صحيح البخاری جلد ۴ امس بَاب ۲۱ : مَا جَاءَ فِي الْغَرْسِ ا - كتاب الحرث والمزارعة کاشتکاری اور درختوں کے بونے کے متعلق جو روایتیں آئی ہیں ؛ ان کا ذکر ٢٣٤٩: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۲۳۴۹ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ ) بن عبدالرحمن ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوحازم سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ ( سلمہ بن دینار ) سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت سہل نے کہا : جمعہ کے دن ہم خوشی منایا کرتے تھے (اور) ہماری ایک إِنْ كُنَّا لَنَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ كَانَتْ لَنَا عَجُوْزٌ تَأْخُذُ مِنْ أُصُوْلِ سِلْقٍ لَّنَا بڑھیا تھی جو چقندر کی جڑیں ہمارے لئے لیتی ، جنہیں كُنَّا نَعْرِسُهُ فِي أَرْبِعَائِنَا فَتَجْعَلُهُ فِي ہم اپنے باغ کی نالیوں میں لگایا کرتے تھے اور وہ انہیں قِدْرٍ لَّهَا فَتَجْعَلُ فِيْهِ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيْرٍ اپنی ہانڈی میں ڈال دیتی اور اس میں کچھ جو کے دانے لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ فِيْهِ شَحْمٌ بھی ڈال دیتی۔(ابو حازم نے کہا کہ ) میں یہی سمجھتا ہوں لَا وَدَكٌ فَإِذَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ زُرْنَاهَا که حضرت بہل نے اسی طرح کہا: اس میں نہ چربی ہوتی فَقَرَّبَتْهُ إِلَيْنَا فَكُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ اور نہ چکنائی۔جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ چکتے تو ہم اس کی ملاقات کیلئے جاتے اور وہ ہمارے سامنے یہ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَمَا كُنَّا نَتَغَدَّى (کھانا) رکھتی۔اس لئے جمعہ کے دن ہم خوش ہوا کرتے وَلَا نَقِيْلُ إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ۔اور جمعہ کے بعد ہی ہم کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے۔اطرافه ۹۳۸، ۹۳۹، ۹۴۱، ٥٤۰۳، ٦٢٤٨ ٠٦٢٧٩ ٢٣٥٠: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ :۲۳۵۰ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ سے ابن شہاب نے اعرج سے ، اعرج نے حضرت أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: يَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ لوگ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ حدیثیں بہت بیان کرتا ہے الْحَدِيثَ وَاللهُ الْمَوْعِدُ وَيَقُوْلُوْنَ اور اللہ ہی کو آخر ( مجھے ) ملنا ہے۔(یعنی اگر جھوٹ