صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 340
صحيح البخاری جلدم ا - كتاب الحرث والمزارعة أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ جنتوں میں سے ایک شخص نے اپنے رب سے کھیتی فَقَالَ لَهُ أَلَسْتَ فِيْمَا شِئْتَ قَالَ کرنے کی اجازت مانگی تو (اس کے رب نے ) اس بَلَى وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ قَالَ سے کہا: کیا جوتو چاہتا ہے، تجھے میسر نہیں ؟ اس نے کہا: فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ کیوں نہیں۔(سب کچھ موجود ہے۔لیکن مجھے یہ پسند ہے کہ میں کھیتی کروں۔چنانچہ اس نے بیج ڈالے۔وَاسْتِحْصَادُهُ فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ آنکھ کی جھپک میں وہ اُگ آئی اور وہ سیدھی کھڑی فَيَقُوْلُ اللهُ دُونَكَ يَا ابْنَ آدَمَ فَإِنَّهُ ہو کر پک گئی اور کٹائی کے قابل بھی ہوگئی اور وہ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ پہاڑوں کی طرح اونچی تھی۔تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا اے ابن آدم ! لے تجھے کوئی چیز بھی سیر نہیں کرتی۔وہ فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ { وَأَمَّا نَحْنُ بو کہنے لگا: اللہ کی قسم ! آپ یہ شخص قریشی یا انصاری فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ فَضَحِكَ ہی پائیں گے۔کیونکہ وہی کھیتی باڑی کیا کرتے ہیں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اور ہم جو ہیں ؟ ہم تو کھیتی باڑی نہیں کرتے۔} طرفه ٧٥١٩ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔تشریح: یہ باب بھی بلا عنوان ہے اور بطور فصل جہاں سابقہ باب کا مضمون ختم ہوتا ہے۔اس باب سے یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ سابقہ باب میں جس ممانعت کا ذکر ہے وہ تحریمی نہیں؛ بلکہ تنزیہی ہے۔یعنی آنحضرت ﷺ کا مقصد بخل و حرص سے بچانا تھا۔حرص انسان پر اتنی غالب ہے کہ جنت میں بھی وہ چاہے گا کہ اُسے اور ملے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۴) فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ۔۔۔۔۔بدوی کا قول بطور مزاح تھا اور امر واقعہ بھی تھا کہ مہاجرین اور انصار ہی کھتی باڑی کیا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَيُزَكِّيهِمُ (البقرة: ۱۳۰) کہ وہ انہیں پاک وصاف کرے گا۔آپ کے اہم مقاصد میں سے تزکیہ نفس بھی ہے اور واقعہ مندرجہ زیر باب ۱۸ سینکڑوں واقعات تزکیہ میں سے ایک واقعہ ہے۔یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۳۴)