صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 340 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 340

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۰ ۴-۱- كتاب الحرث والمزارعة أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ جنتیوں میں سے ایک شخص نے اپنے رب سے کھیتی فَقَالَ لَهُ أَلَسْتَ فِيْمَا شِئْتَ قَالَ کرنے کی اجازت مانگی تو (اس کے رب نے ) اس بَلَى وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ قَالَ سے کہا: کیا جوتو چاہتا ہے، تجھے میسر نہیں ؟ اس نے کہا: فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتَوَاؤُهُ کیوں نہیں ۔ (سب کچھ موجود ہے۔ لیکن مجھے یہ وَاسْتِحْصَادُهُ فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ پسند ہے کہ میں کھیتی کروں۔ چنانچہ اس نے بیچ ڈالے۔ آنکھ کی جھپک میں وہ اُگ آئی اور وہ سیدھی کھڑی اور وہ فَيَقُوْلُ اللَّهُ دُونَكَ يَا ابْنَ آدَمَ فَإِنَّهُ ہو کر پک گئی اور کٹائی کے قابل بھی ہوگئی لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ پہاڑوں کی طرح اونچی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا اے ابن آدم ! لے تجھے کوئی چیز بھی سیر نہیں کرتی ۔ وہ فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ { وَأَمَّا نَحْنُ بدو کہنے لگا: اللہ کی قسم! آپ یہ شخص قر پ یہ شخص قریشی یا انصاری فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ فَضَحِكَ ہی پائیں گے۔ کیونکہ وہی کھیتی باڑی کیا کرتے ہیں اور ہم جو ہیں؛ ہم تو کھیتی باڑی نہیں کرتے۔} النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ طرفه ٧٥١٩ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ تشریح یہ باب بھی بلا عنوان ہے اور بطور فصل جہاں سابقہ باب کا مضون ختم ہوتا باب کا مضمون ختم ہوتا ہے۔ اس باب سے یہ بتانا مقصود ہے کہ سابقہ باب میں جس ممانعت کا ذکر ہے وہ تحریمی نہیں؛ بلکہ تنزیہی ہے۔ یعنی آنحضرت علی کا مقصد بخل و حرص سے بچانا تھا۔ حرص انسان پر اتنی غالب ہے کہ جنت میں بھی وہ چاہے گا کہ اُسے اور ملے ۔ بھی جال الله عليه ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۴) فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ ۔۔۔۔۔ بدوی کا قول بطور مزاح تھا اور امر واقعہ بھی تھا کہ مہاجرین اور انصار ہی کھتی باڑی کیا کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَيُزَكِّيهِمُ (البقرۃ: ۱۳۰) کہ وہ انہیں پاک وصاف کرے گا۔ آپؐ کے اہم مقاصد میں سے تزکیہ نفس بھی ہے اور واقعہ مندرجہ زیر باب ۱۸ سینکڑوں واقعات تزکیہ میں سے ایک واقعہ ہے۔ یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۳۴)