صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 339
صحيح البخاري - جلد ۴ میں جاتی تھیں ۳۳۹ صلى الله ۴-۱- كتاب الحرث والمزارعة دینے سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد لَا تَفْعَلُوا کا مفہوم یہ نہیں کہ زمینیں ٹھیکے پر نہ دی جائیں ۔ بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ مہاجر خود محتاج ہیں، غیروں کو یہ زمینیں ٹھیکے پر دینا مناسب نہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اپنی زمین ٹھیکے پر دینے کا سابقہ طریق ترک کر دینا احتیاط کی وجہ سے تھا۔ چنانچہ باب ۱۸ حضرت رافع بن خدیج کی روایت جو ایک دوسری سند سے مروی ہے ؛ اس میں مزید وضاحت ہے کہ زمینیں نقد ٹھیکے پر دی اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا گیا۔ دراصل محاقلہ اور مخاضر کی صورت میں آنحضرت ﷺ نے زمین ٹھیکے پر عليه ۔ دینے کی ممانعت فرمائی ( دیکھئے کتاب البیوع، باب (۹۳) اور اس سے بھی منع کیا کہ جہاں کھیتی پانی کی نالی کے قریب ہو، اس کی فصل مالک اپنے لئے مخصوص کرلے اور دور کی کھیتی جہاں پانی کم پہنچتا ہو، اس کی فصل مزارع کے لئے رہنے دے یہ طریق اس کے لئے نقصان دہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کے دریافت کرنے پر حضرت ظہیر بن رافع نے جواب دیا: نُوَّاجِرُهَا عَلَى الربيع ۔ جسے آپ نے پسند نہیں فرمایا۔ (دیکھئے روایت نمبر ۲۳۳۲ ، ۲۳۳۹) ان روایات میں یہ بھی ذکر ہے کہ حضرت رافع بن خدیج کے خاندان کی مدینہ میں سب سے زیادہ اراضیات تھیں، جن میں سے بعض خالی پڑی رہتیں۔ إِنَّ أَمْثَلَ مَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ أَنْ تَسْتَأْجِرُوا الْأَرْضَ ۔۔۔۔ : عنوانِ باب (نمبر ۱۹) میں حضرت ابن عباس کی روایت کے حوالے کے لئے دیکھئے کتاب الهبة، باب ۳۵، روایت نمبر ۲۶۳۴۔ صلى الله باب ۲۰ ٢٣٤٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ۲۳۴۸: محمد بن سنان نے ہمیں بتایا۔ فلیچ نے ہم حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنَا هِلَال ح۔ وَحَدَّثَنِي سے بیان کیا کہ ہلال ( بن علی ) نے ہمیں بتایا۔ نیز عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عبد الله بن محمد نے بھی مجھے بتایا کہ ابو عامر نے ہم سے حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيّ بیان کیا کہ فلیح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلا ہوں نے ہلال بن علی عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہے، ہلال نے عطاء بن بیسار سے، عطاء نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَوْمًا يُحَدِّثُ وَعِنْدَهُ ایک دن باتیں کر رہے تھے اور آپ کے پاس بدوؤں رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ میں سے بھی ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ (آپ نے فرمایا:) محاقلہ سے مراد خشک اناج کے عوض کھڑی فصل کی خرید و فروخت کرنا نیز خشک اناج کے عوض قابل کاشت زمین کا ٹھیکے پر دینا ہے۔ جبکہ مخاضر جبکہ مخاضرہ سے مراد ہری فصل کی خرید و فروخت ہے۔ ( تشریح کتاب البیوع باب ۹۳)