صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 319 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 319

صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۱۹ ۴-۱- كتاب الحرث والمزارعة میں ۲۳۲۸ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۲۳۲۸ : ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ (عمری) سے، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا: نبی ﷺ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ خَيْبَرَ (یہودیوں کو ) خیبر کی زمین نصف پیداوار لینے کی شرط پر بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ دی تھی۔ خواہ پھل ہوں یا اناج ۔ پھر آپ اپنی ازواج کو فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ مِائَةً وَسْقٍ سو وسق دیا کرتے تھے؛ اسی وسق کھجور کے اور با ثَمَانُوْنَ وَسْقَ تَمْرٍ وَعِشْرُوْنَ وَسْقَ وَق جو کے۔ حضرت عمر نے (اپنی خلافت کے زمانہ شَعِيْرٍ وَقَسَمَ عُمَرُ خَيْبَرَ فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ میں یہودیوں کو نکال کر خیبر کی زمین تقسیم کر دی تو النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو اختیار دیا کہ اگر وہ لَهُنَّ مِنَ الْمَاءِ وَالْأَرْضِ أَوْ يُمْضِيَ چاہیں تو عمر ان کو زمین اور پانی کا حصہ دے دیں (اور لَهُنَّ فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْأَرْضَ وَمِنْهُنَّ کاشت کا انتظام وہ خود کریں ) یا جس طرح پہلے ان کو مَنِ اخْتَارَ الْوَسْقَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ پیداوار ملا کرتی تھی، ویسی ملتی رہے۔ ازواج مطہرات اخْتَارَتِ الْأَرْضَ۔ تشريح : الْمُزَارَعَةُ بِالشَّطْرِ وَنَحْوِهِ: میں سے بعض نے زمین پسند کی اور بعض نے وسق اور حضرت عائشہ نے زمین لینی پسند کی ۔ اطرافه: ۲۲۸۵، ۲۳۲۹، ۲۳۳۱، ۲۳۳۸، ۲۴۹۹، ٢۷۲۰، ٣١٥٢، ٤٢٤٨۔ ه روایت زیر باب میں نصف بٹائی پر زمین کاشت ۔ اشت کے لئے دینے کا ذکر تو موجود ہے۔ مگر اس سے کم و بیش بٹائی کا ذکر نہیں۔ البتہ عنوان باب میں صحابہ اور تابعین کے کئی ایک اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے زمانہ میں بٹائی پر زمین دینے کا طریق رائج تھا۔ کہیں نصف پیداوار لینے کی شرط پر اور کہیں ایک تہائی پر۔ بشرطیکہ پانی کا انتظام مزارع کرے۔ --- وَعَامَلَ عُمَرُ النَّاسَ ۔۔۔۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل درآ۔ در آمد کا جو حوالہ دیا گیا ہے ، وہ ابن ابی شیبہ جرید نے موصولاً نقل کیا ہے کہ وہ مزار عین کو دو تہائی پیداوار دیتے ، اگر بیج اور سامان ان کی طرف سے ہوتا۔ ورنہ نصف اور اس صورت میں بیج اور جو تنے کا سامان اور جانور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے مہیا کئے جاتے۔ کھجور کا پانچواں اور انگور کا (مصنف ابن ابی شیبه کتاب المغازی، باب ما ذكروا في أهل نجران ، جزء۷ صفحه ۴۲۶)