صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 320
صحيح البخاري - جلدم ۳۲۰ ا - كتاب الحرث والمزارعة ایک تہائی پھل نگرانی کرنے والوں کا حق ہوتا۔یہ روایت امام بیہقی نے بھی نقل کی ہے۔مگر ان کی روایت میں کھجور اور انگور کے پھلوں کی نسبت صرف ایک تہائی بٹائی کا ذکر ہے اور یہ صورت مبنی بر انصاف ہے۔قیس کا حوالہ مسند عبدالرزاق میں مروی ہے۔یکے جس سے پایا جاتا ہے کہ مدینہ میں قدیم طریق بٹائی ایک تہائی یا ایک چوتھائی کا تھا۔مگر بعد میں مزارع کے لئے سہولت سے کام لیا گیا۔اس تعلق میں باب ۱۲ و باب ۱۷ بھی دیکھئے۔بعض فقہاء نے بٹائی پر زمین دینے کو ناجائز قرار دیا ہے۔(عمدۃ القاری جز ۲ صفحہ ۱۶۷) لیکن در حقیقت بٹائی پر زمین دینے کی وہ صورت ممنوع ہے جس سے فریقین میں سے کسی ایک کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔بَاب ٩ : إِذَا لَمْ يَشْتَرِطِ السِّنِيْنَ فِي الْمُزَارَعَةِ اگر کوئی بٹائی میں سالوں کی شرط نہ کرے ( تو اس کا کیا حکم ہے؟) ۲۳۲۹: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۲۳۲۹ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی بن سعید يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ سے روایت کی نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا کہ نافع نے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت ابن عمر قَالَ عَامَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے نقل کیا۔کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ نے خیبر کی زمینوں کی بٹائی نصف پیداوار کی شرط پر کی ؛ خواہ میوہ ہو یا اناج۔أَوْ زَرْع اطرافه: ۲۲۸۵، ۲۳۲۸، ۲۳۳۱، ۲۳۳۸، ۲۴۹۹، ۲۷۲۰، ٣١٥۲، ٤٢٤٨۔باب ۱۰ ۲۳۳۰ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۳۳۰ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرُو قُلْتُ (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار) کہتے لِطَاوُسٍ لَوْ تَرَكْتَ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ تھے میں نے طاؤس سے کہا: اگر تم بٹائی چھوڑ دو تو يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بہتر ہے۔کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نَهَى عَنْهُ قَالَ أَيْ عَمْرُو إِنِّي أُعْطِيْهِمْ نے اس سے منع فرمایا ہے۔طاؤس نے کہا: عمرو! میں (سنن الكبرى للبيهقى كتاب المزارعة، باب من أباح المزارعة بجزء معلوم، جزء ۶ صفحه ۱۳۵) مصنف عبد الرزاق، كتاب البيوع، باب المزارعة على الثلث والربع جزء ۸ صفحه ۱۰۰)