صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 310
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۱۰ ۴۱ - كتاب الحرث والمزارعة مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَ ہے تو یہ کھیتی اور درخت) اس کے لئے ثواب کا لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ۔ وَقَالَ لَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا موجب بن جائے گا۔ اور مسلم ( بن ابراہیم از دی) نے أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنِ ہم سے کہا: ابان ( بن یزید عطار ) نے ہمیں بتایا کہ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس نے نبی طرفه: ٦٠١٢۔ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ تشریح : فَضْلُ الزَّرْعِ وَالْغَرْسِ : پہلے باب کا عنوان زراعت اور باغبانی کی فضیت پر قائم کر کے سورہ واقعہ کی آیات ۶۴ تا ۶۶ کا حوالہ دیا گیا ہے : أَفَرَعَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُونَ وَ أَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّرِعُونَ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ ) إِنَّا لَمُغْرَمُونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ (الواقعة : ۶۴ تا ۶۸) یعنی کیا تمہیں معلوم ہے جو تم ہوتے ہو؟ کیا اُسے تم اُگاتے ہو یا ہم اُگاتے ہیں؟ اگر ہم چاہتے تو اسے بالکل جلا ہوا چورا بنا دیتے۔ پھر تم باتیں بناتے رہ جاتے اور کہتے کہ ہم پر چٹی پڑ گئی۔ بلکہ ہم اپنی محنت کے پھل سے محروم ہو گئے ۔ محولہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے زراعت کو اپنے بہت بڑے فضلوں میں سے شمار کیا ہے اور اس کے تعلق میں آبپاشی کے آسمانی نظام کا ذکر بھی بطور احسان فرمایا۔ کیونکہ زراعت اور آبپاشی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ انسان، پرند اور چرند کی حیات و بقاء کا دارو مدار کھیتی اور درختوں پر ہے۔ جیسا کہ حدیث نبوی مندرجہ زیر باب میں تصریح ہے کہ کسی شئے کی فضیلت و عظمت کا تعلق اُس کے سود مند ہونے پر ہے۔ جس قدر کوئی چیز نافع ہوگی ، اسی قدر وہ افضل ہوگی ۔ مذکورہ بالا حدیث میں بتایا گیا ہے کہ زراعت کا نفع ہر انسان اور حیوان کے لئے۔ ئے ہے۔ اسی لئے کاشتکار اور پودا لگانے والے کا فعل قابل ثواب قرار دیا گیا ہے اور خدا تعالی کے نزدیک پسندیدہ اور مقبول ۔ قَالَ لَنَا مُسْلِم ۔۔۔۔ : روایت مذکورہ بالا کے آخر میں مسلم بن ابراہیم کی روایت کا جو حوالہ دیا گیا ہے۔ وہ قتادہ راوی کے حافظے کی کمزوری کے پیش نظر ہے۔ یہ راوی ضبط الفاظ میں پورے معیار کے نہ تھے۔ دوسرے راویوں نے بھی انہی الفاظ سے مذکورہ بالا حدیث نقل کی ہے؟ جن میں سے مسلم بن ابراہیم بھی ہیں۔ ان سے مروی ہے کہ قتادہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام مبشر انصاری رضی اللہ عنہ کے نخلستان میں آئے اور فرمایا: لا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرُسًا ۔ اس حوالہ کو نقل کرنے سے ان کی غرض یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ کی صحت میں کوئی شبہ نہیں۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۶ ) (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۱۵۶) (مسلم، کتاب المساقاة، باب فضل الغرس والزرع) (مسند احمد بن حنبل جزء ۳ صفحہ۱۹۲)