صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 309
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۰۹ بالله العالم ۴-۱- كتاب الحرث والمزارعة ٤١ - كِتَابُ الْحَرْثِ وَالْمُزَارَعَةِ زَرَعَ کے معنے ہیں ہونا ۔ اسی سے زراعت یعنی کا شتکاری ہے ۔ لفظ زَرَعَ سے باب مفاعلہ مُزَارَعَةً ہے۔ یعنی دوسرے کو بٹائی پر زمین کاشت کے لئے دینا۔ اس کتاب میں ایسے احکام کا بیان ہوگا؛ جو کاشتکاری اور باغبانی سے متعلق ہیں ۔ بَاب ۱ : فَضْلُ الزَّرْعِ وَالْغَرْسِ إِذَا أُكِلَ مِنْهُ کھیت ہونے اور میوہ دار درخت لگانے کی فضیلت بشر طیکہ لوگ اس سے کھائیں وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : أَفَرَعَيْتُمْ مَّا اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر : کیا تم کو معلوم ہے تَحْرُثُونَ وَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ جو تم ہوتے ہو، کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اس کو نَحْنُ الزُّرِعُونَ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْتُهُ اُگانے والے ہیں؟ اگر ہم چاہتے تو اس کو بالکل جلا حُطَامًا۔ (الواقعة : ٦٤-٦٦) ہوا چورا بنا دیتے۔ ۲۳۲۰ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۲۳۲۰ : قتيبه تیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ بن حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح وَحَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔ (دوسری سند ) اور عبدالرحمن بن مبارک عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس سے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ نے فرمایا: جو مسلمان بھی کوئی پودا لگاتا ہے یا کھیتی ہوتا يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ ہے اور پھر اُس سے کوئی پرندہ یا انسان یا چوپا یہ کھاتا