صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 308 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 308

صحيح البخاري - جلد ۴ ٣٠٨ ٤٠ - كتاب الوكالة بَاب ١٦ : وَكَالَةُ الْأَمِيْنِ فِي الْخِزَانَةِ وَنَحْوِهَا امین کا خزانے وغیرہ میں وکیل کیا جانا ۲۳۱۹ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۲۳۱۹ : محمد بن علاء نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو اسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید بن عبداللہ سے، عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى يُريد نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ روایت کی کہ آپ نے فرمایا: دیانت دار خزانچی وہ ہے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي جو خرچ کرتا ہے اور بعض دفعہ فرمایا: جو دیتا ہے جس قدر يُنْفِقُ وَرُبَّمَا قَالَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ کہ دینے کا اس کو حکم دیا گیا ہے پورے کا پورا دیتا كَامِلا مُوَفَّرًا طَيِّبًا نَّفْسُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ ہے۔ دیتے وقت اس کا نفس خوش ہوتا ہے۔ اس شخص کو دیتا ہے جس کو دینے کے لئے کہا گیا ہے۔ ایسا شخص بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِيْنِ۔ اطرافه: ١٤٣٨، ٢٢٦٠۔ بھی صدقہ دینے والوں کا ثواب پانے والا ہے۔ تشريح : وَكَالَةُ الْأَمِينِ فِي الْخِزَانَةِ وَنَحْوِهَا : روایت زیر باب اور اس ها روایت زیر باب اور اس کی تشریح کے لئے دیکھئے //// کتاب الزكاة، باب ۲۵ روایت نمبر ۱۴۳۸، كتاب الإجارة، بابا روایت نمبر ۲۲۶۰۔ ان ابواب کے عناوین کے پیش نظر ایک لحاظ سے خزانچی ملازم ہے اور ایک لحاظ سے وکیل ۔ کیونکہ ادائیگی کا کام بھی اس کے سپر د ہوتا ہے اور یہ وکالت عام صورت میں ہے۔ مالک کی موجودگی میں خزانچی اس قسم کی وکالت کا فرض ادا کر سکتا ہے۔ بعض فقہاء احناف نے وکالت کی صحت کے لئے ضروری قرار دیا ہے کہ مؤکل شہر سے باہر ہو۔ لیکن بسا اوقات موجودگی میں بھی کسی کام کے لئے دوسرے کو سپرد کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ (دیکھئے باب ۵ مع تشریح ) 0000000000