صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 307
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۰۷ ۴۰ - كتاب الوكالة وَيَشْرَبُ مِنْ مَّاءٍ فِيْهَا طَيِّبِ فَلَمَّا اُتری کہ تم نیکی کو ہرگز نہ پاسکو گے، جب تک تم ان نَزَلَتْ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا چیزوں سے نہ خرچ کرو گے جو تمہیں پیاری ہیں تو ابوطلحہ مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ۹۳) قَامَ اُٹھے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ يارسول اللہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے تم نیکی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ کو ہرگز نہیں پا سکو گے جب تک تم ان چیزوں کو نہ خرچ کرو جن سے تم محبت رکھتے ہو اور مجھے اپنی جائیدادوں تَعَالَى يَقُوْلُ فِي كِتَابِهِ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ میں سے زیادہ پیارا بیرحاء کا باغ ہے۔ لیجئے وہ اللہ صدقہ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ۹۳) کے لئے صدقہ ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُ حَاءَ خالص نیکی اور اللہ تعالیٰ کے حضور میرے لئے ثواب کا وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا موجب ہوگا۔ یا رسول اللہ ! آپ جہاں چاہیں، لگائیں۔ عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُوْلَ اللهِ حَيْثُ آپؐ نے فرمایا: واہ! یہ مال تو جانے والا ہے۔ یہ مال تو شِئْتَ فَقَالَ بَحْ ذَلِكَ مَالٌ رَائِحٌ جانے والا ہے۔ میں نے سن لیا ہے جو تم نے اس کے ذَلِكَ مَالٌ رَائِحٌ قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ متعلق کہا ہے اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اس کو اپنے فِيْهَا وَأَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ عزیزوں کے لئے ہی رکھو۔ ابوطلحہ نے کہا: یا رسول اللہ ! قَالَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کو اپنے قریبیوں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔ ( یحی بن یحی أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ۔ کی طرح) اسماعیل نے بھی یہ حدیث مالک سے نقل کی تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ عَنْ مَالِكِ وَقَالَ اور روح نے مالک سے روایت کرتے ہوئے لفظ رَوْحٌ عَنْ مَالِكِ رَابِحٌ ۔ رائع کی بجائے لفظ رابح کہا (یعنی فائدہ مند مال ) اطرافه: ١٤٦١، ٢٧٥٢، ٢٧٦٩، ٤٥٥٤، 4555، 5611۔ ضَعُهُ حَيْثُ أَرَاكَ اللهُ: روایت زیر باب میں وکالت وکالت کی ایک اور غیر معین صورت کا ذکر ہے۔ تشریح : حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قیمتی جائیداد سپرد اجائیداد سپرد کی کہ جہاں چاہیں ۔ ں اسے کام میں لائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وکالت قبول فرمائی اور ان سے کہا کہ میں یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ اپنے رشتہ داروں کو یہ جائیداد دیں۔ وکالت کی دونوں صورتیں عام ہیں۔ ان میں کوئی شئے معین نہیں کی گئی۔ مذکورہ بالا روایت کے لیے کتاب الوصايا، باب ۲۶ بھی دیکھئے۔